Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
19 - 831
 اہمیت وافادیت قاری پر واضح ہوسکے۔
٭…عوام میں   مشہور ایسے واقعات یا اَقوال جو ہمیں   کسی مستند کتاب میں   نہیں   ملے انہیں   شامل نہیں   کیا گیا۔
٭…بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مخاطب کو کوئی بات زبانی کلامی سمجھ میں   نہیں   آتی لیکن اسی بات کو نقشہ بنا کر سمجھایا جائے تو فوراً سمجھ میں   آجاتی ہے، نقشہ بنا کر بات کو سمجھانا خود حدیث مبارکہ سے ثابت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فیضانِ فاروق اعظم میں   بعض مقامات پر اہم اُمور کی وضاحت کے لیے مختلف نقشے اور چند مقامات کی تصاویر بھی دی گئی ہیں  ۔ 
٭… سیِّدُنافاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی حیات طیبہ کے ہر ہر گوشے سے متعلق کئی کئی روایات اورواقعات ملتے ہیں   لیکن ضخامت کے پیش نظر چیدہ چیدہ اہم روایات وواقعات کو ہی لیا گیا ہے۔
(3)…عربی عبارات کا ترجمہ:
عربی یا فارسی وغیرہ کتب سے مواد لے کر اُسے بعینہ اُسی مفہوم پر اردو زبان میں   ڈھالناایک بہت بڑا فن اور نہایت ہی مشکل امر ہے، مترجمین کے لیے اِس میں   بہت احتیاط کی حاجت ہے کہ بسا اوقات ترجمہ کرتے ہوئے نفس مفہوم ہی تبدیل ہوجاتا ہے۔ ’’فیضانِ فاروقِ اعظم ‘‘میں   عربی وفارسی عبارات کے ترجمے کے حوالے سے درج ذیل اُمور کو پیش نظر رکھا گیا:
٭…عربی وفارسی عبارات میں   لفظی ترجمے کے بجائے مفہومی ترجمہ کیا گیا ہے۔
٭…ترجمہ کرتے وقت اِس بات کا خاص لحاظ رکھا گیا ہے کہ نفس مسئلہ میں   کوئی تغیر واقع نہ ہو۔
٭… روایات واحادیث کا ترجمہ کرتے ہوئے علمائے اہلسنت کے تراجم کو بھی سامنے رکھا گیا ہے۔
٭…ترجمہ کرتے وقت شروح ولغات کی طرف بھی رجوع کیا گیا ہے۔
٭…احادیث وروایات کے ترجمہ میں   طویل سند بیان کرنے کے بجائے فقط آخری راوی کے ذکر پر اکتفاء کیا گیا ہےنیز بعض مقامات پر ایک ہی موضوع کی مختلف روایات کو بھی ضرورتاً بیان کیا گیا ہے۔
٭…دورانِ ترجمہ مشکل مقامات پر ’’المدینۃ العلمیۃ‘‘ کے شعبہ ’’تراجم کتب‘‘کے ماہر مترجمین مدنی علمائے