اے امیر المومنین یہ تو جاہل ہے۔‘‘ حرکا یہ کہنا تھا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وہیں رک گئے اور یہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی عادت مبارکہ تھی کہ کتاب اللہ کی بات سن کر ٹھہر جاتے تھے۔(1)
فاروقِ اعظم اور اتباع سنت
پھر کبھی غیراللہ کی قسم نہ کھائی:
حضرت سیِّدُنا سالم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ ایک بار دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھا کہ وہ اپنے والد کی قسم اٹھارہے تھے ( یعنی یوں کہہ رہے تھے کہ مجھے میرے باپ کی قسم!) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ سن لیا اورارشاد فرمایا:’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں اپنے آباء کی قسم اٹھانے سے روکتا ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے قصداً یا بھول کر کبھی ایسی قسم نہ اٹھائی۔(2)
فاروقِ اعظم کی اتباعِ رسول کا انوکھا انداز:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر جب قاتلانہ حملہ ہوا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کیا گیا:’’ آپ اپنی جگہ کسی کو جانشین کیوں نہیں بنادیتے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ اگر میں جانشین مقرر کرتا ہوں تو بھی صحیح ہے کیونکہ مجھ سے بہتر (یعنی خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )نے بھی ایسا کیا تھااورکسی کو جانشین بنائے بغیر تمہیں یوں ہی چھوڑ دو تو بھی صحیح ہے کیونکہ دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مجھ سے بہتر تھے ،آپ نے بھی کسی کو بالتصریح خلافت کے لیے نامزد نہیں کیا۔‘‘حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ جب آ پ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاذکر کیا تو مجھے یقین ہوگیا کہ آپ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری ،کتاب التفسیر، خذ العفووامربالعرف، ج۳، ص۲۲۷،حدیث:۴۶۴۲ملتقطا۔
2…ترمذی ،کتاب النذور والایمان ،ماجاء فی کراھیۃ الحلف بغیر اللہ ،ج۳، ص۱۸۴، حدیث:۱۵۳۸۔