Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
188 - 831
 حرکت اور حرارت سے پیدا ہونے والا غضب سکون پالے ۔(1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غصے پر قابو پانے کے مزید طریقے جاننے کے لیے شیخ طریقت، امیر اہلسنت، بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا رسالہ ’’غصے کا علاج‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔
فاروقِ اعظم کے غصہ ٹھنڈا کرنے کا مدنی انداز:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے ایک مرتبہ غصے کے وقت ناک میں   پانی چڑھایا اور ارشاد فرمایا: ’’غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور یہ عمل غصہ کو دور کردیتا ہے۔‘‘رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’اے ابو ذر! نظر اٹھا کر آسمان اور اس کے خالق عَزَّ وَجَلَّ  کی عظمت کی طرف دیکھو، پھر یہ یقین کر لو کہ تم کسی سرخ یاسیاہ سے افضل نہیں  ، مگریہ کہ تم علم میں   اس سے افضل ہو جاؤ۔جب تمہیں   غصہ آیا کرے تو اگر تم کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ اور اگر بیٹھے ہو تو ٹیک لگا لو اور اگر ٹیک لگا کر بیٹھے ہو تو لیٹ جاؤ۔‘‘(2)
آیت مبارکہ سن کر رک گئے:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ حربن قیس بن حصن نے اپنے چچا عُیینہ بن حصن کے لیے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس آنے کی اجازت طلب کی۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اجازت دے دی۔ وہ اندر آیا اور کہنے لگا: ’’اے خطاب کے بیٹے ! خدا کی قسم! تم نہ ہمیں   صلہ دیتے ہو اور نہ ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتے ہو۔‘‘یہ سن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جلال آگیا اور قریب تھا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اسے پکڑ لیتے۔ حر بن قیس کہنے لگا: ’’ اے امیر المومنین!   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے فرمایا ہے : (خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ(۱۹۹)) (پ۹، الاعراف:۱۹۹) ترجمۂ کنز الایمان: اے محبوب معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں   سے منہ پھیر لو۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزواجر عن اقتراف الکبائر، ج۱، ص۱۰۶۔
2…اتحاف السادۃ المتقین،کتاب ذم الغضب والحقدوالحسد،باب بیان علاج الغضب بعدھیجانہ،ج ۹،ص۴۲۷۔