میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ احادیث مبارکہ سے غصہ کی دوا اور اس کے کے بعد اسے زائل کرنے والے اعمال کا پتا چلتا ہے، لہٰذا ہرمسلمان کو چاہیے کہ غصہ زائل کرنے کی فضیلت والی روایات اور عفوودرگزر، بردباری اور صبر کے فضائل میں غور کرے کیونکہ اس طرح انسان اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے تیار کردہ ثواب میں رغبت کرتاہے جس سے اس کے غصے و اہانت وسزا کی طرف مائل کرنے کا سبب زائل ہو جاتا ہے، خود امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مبارک عمل ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔چنانچہ،
فاروقِ اعظم نے آیت سنتے ہی معاف فرمادیا:
ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک شخص کو سزا کاحکم دیا تو اس نے یہ آیت مبارکہ پڑھی: (خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ(۱۹۹)) (پ۹، الاعراف:۱۹۹) ترجمۂ کنز الایمان: ’’اے محبوب معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو۔‘‘
حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ آیت مبارکہ سنی اور اس میں غور کیا تو اُسے معاف فرمایادیا، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی عادت مبارکہ تھی کہ قرآن پاک سن کراپنے فیصلے سے رُک جاتے اور اس سے تجاوز نہ فرماتے تھے۔ اس معاملہ میں حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بھی حضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی پیروی کی یوں کہ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک شخص کو کوڑے مارنے کا حکم دیا تو اس نے یہ آیت مبارکہ پڑھی: (وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ ) (پ۴، اٰل عمران:۱۳۴) ترجمۂ کنز الایمان: ’’اور غصہ پینے والے۔ ‘‘تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بھی اسے آزاد کرنے کا حکم دے دیا۔(1)
غصہ زائل کرنے کے مختلف طریقے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن نے غصے کو زائل کرنے کے مختلف طریقے بیان فرمائے ہیں ۔ علامہ ابن حجر ہیتمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے غصہ زائل کرنے کے درج ذیل پانچ طریقے بیان فرمائے ہیں :
(1) پہلا طریقہ یہ ہے کہ انسان اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قدرت میں غور کرے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بھی اس پر غضب فرمائے گا کیونکہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزواجر ،الکبیرۃ الثالثۃ، ج۱، ص۱۲۲۔