Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
185 - 831
سزاوار اور اس کے اہل تھے۔‘‘حضرت علامہ مولانا حافظ ابن حجر مکی ہیتمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  اس آیت مبارکہ کو ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں  : ’’اس آیت مبارکہ میں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ناحق غصہ کے سبب صادر ہونے والی نخوت و مروّت ظاہر کرنے پر کفار کی مذمت فرمائی اور مسلمانوں   کو نخوت ومروّت سے بچانے والے اطمینان اورسکینہ نازل کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے ان کی مدح فرمائی ہے کہ انہوں   نے پرہیز گاری کولازم پکڑلیا ہے،اس لئے وہ اس کے اہل اورمستحق ٹھہرے ہیں  ۔‘‘ (1)
غصہ پینے کا انعام:
  نور کے پیکر،تمام نبیوں   کے سرور،دوجہاں   کے تاجور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کاارشادِ پاک ہے :’’ مومن کے غصہ پی لینے سے بڑھ کر کوئی گھونٹ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں   زیادہ پسندیدہ نہیں  ، او رجو غصہ نافذ کرنے پر قدرت کے باوجود غصہ پی لے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے دل کو امن اور ایمان سے بھردے گا ۔ ‘‘(2)
غصے کو زائل کرنے کا طریقہ:
غصے کو زائل کرنے کے طریقوں   پر مشتمل تین احادیث مبارکہ پیش خدمت ہیں  :
(1) ’’جب تم میں   سے کسی کو کھڑے ہوئے غصہ آئے تو وہ بیٹھ جائے اور اگر بیٹھے ہوئے آئے تو لیٹ جائے۔‘‘(3)
(2)’’جب تم میں   سے کسی کو غصہ آئے تو اسے چاہیے کہ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ پڑھ لے اس کا غصہ ختم ہوجائے گا۔‘‘(4)
(3)’’بے شک غصہ شیطان کی طرف سے ہے ، شیطان آگ کی پیدا ئش ہے اور آگ پانی سے بجھتی ہے لہٰذا جب تم میں   سے کسی کو غصہ آئے تو وہ وضو کرلے۔‘‘ (5)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزواجر عن اقتراف الکبائر، ج۱، ص۱۰۳۔
2…ابن ماجہ ،ابواب الزھد ،باب الحلم، ج۴، ص۴۶۳، حدیث: ۴۱۸۹۔
	کنزالعمال، کتاب الاخلاق، باب العلم والاناء، الجزء:۳، ج۲، ص۵۶، حدیث:۵۸۱۸۔
3…ابو داود،کتاب الادب،باب مایقال عند الغضب،ج۴،ص۳۲۷،حدیث:۴۷۸۲۔
4…ابو داود،کتاب الادب،باب مایقال عند الغضب،ج۴،ص۳۲۷،حدیث:۴۷۸۱ملخصا۔
5…ابو داود، کتاب الادب ، باب مایقال عند الغضب ، ج۴، ص۳۲۸، حدیث:۴۷۸۴۔