کیونکہ جب اسےغصہ آتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ بھی جلال فرماتا ہے۔‘‘ (1)
غصے کے متعلق چند مدنی پھول :
غصے کے متعلق چند مدنی پھول پیش خدمت ہیں تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ غصہ کرنا کہاں جائز ہے ؟اور کہاں ناجائز؟ واضح رہے کہ غصہ فی نفسہ برا نہیں بلکہ غصے کا اظہار اگر شریعت کے دائرے میں رہ کر کیا جائے تو جائز ورنہ ناجائز۔یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات نیک لوگوں کو بھی غصہ آ جاتا ہے۔ چنانچہ،
نیک لوگوں کو بھی غصہ آتا ہے:
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’سینوں میں موجود قرآن حکیم کی عزت وعظمت کی خاطر حاملین قرآن کو بھی غصہ لاحق ہو جاتاہے ۔‘‘ایک اور روایت میں ہے:’’دین کے لئے غصہ میری اُمت کے بہترین اور نیک لوگوں ہی کو آتاہے۔‘‘ ایک روایت کا مضمون کچھ اس طرح ہے: ’’حاملینِ قرآن سے زیادہ دینی معاملے میں کوئی غضبناک ہونے کا مستحق نہیں کیونکہ ان کے سینے میں قرآن پاک کی عزت و عظمت ہوتی ہے۔‘‘(2)
ناحق غصہ کرنامنع ہے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ناحق غصے کا اظہار کرنا، دل میں کینہ رکھنا اور حسد کرنا یہ تینوں چیزیں ایک دوسرے کولازم وملزوم ہيں یعنی ان کا ایک دوسرے سے تعلق ہے کیونکہ حسد کینے کا نتیجہ ہے اور کینہ غصے کا نتیجہ ہے۔چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے: (اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَاؕ-) (پ۲۶، الفتح:۲۶) ترجمۂ کنز الایمان: ’’جب کہ کافروں نے اپنے دلوں میں اَڑرکھی وہی زمانہ جاہلیت کی اڑ(ضد) تو اللہ نے اپنا اطمینان اپنے رسول اور ایمان والوں پر اُتا ر ا اور پر ہیز گا ر ی کا کلمہ ان پر لازم فرمایا اور وہ اس کے زیادہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ بغداد، محمد بن عبد اللہ، ج۳، ص۴۹، الرقم: ۱۰۱۸۔
2…معجم کبیر،عطاء عن ابن عباس،ج۱۱،ص۱۲۲،حدیث:۱۱۳۳۲۔
کنزالعمال،کتاب الاخلاق،الحدۃ، الجزء:۳، ج۲، ص۵۵، حدیث: ۵۷۹۹، ۵۸۰۳۔