Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
182 - 831
 عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  یہ منظر دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔اتنے میں   گھر کے باہر امیر المؤمنین حضرت عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے (اپنے بیٹے کو)آواز دی:’’عَبْدُاللہ، عَبْدُاللہ ۔‘‘ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے محسوس کیا کہ غالباً حضرت عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اندر آنے والے ہیں  ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں   ارشاد فرمایا: ’’قُوْمَا فَاغْسِلَا وُجُوْھَكُمَا یعنی جلدی جلدی اٹھو اوراپنا منہ دھولو۔‘‘ اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا   فرماتی ہیں  :’’فَمَا زِلْتُ اَھَابُ عُمَرَ لِھَیْبَۃِ  رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِیَّاہُ یعنی جب سے میں   نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا لحاظ کرتے ہوئے دیکھاتب سے میرے دل میں   بھی حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ہیبت بیٹھ گئی ۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کا غصہ اور جلال
 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی سیرتِ طیبہ کا جہاں   بھی ذکر کیا جاتا ہے وہیں   ان کے غصے اور جلال کو بھی بیان کیا جاتاہے۔ یقیناً آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا غصہ اور جلال عین شریعت کے مطابق ہوتا تھا ۔جہاں   دین اسلام ، عزت وعظمتِ اسلام کا معاملہ ہوتا، یا کہیں   احکامات شرعیہ کی خلاف ورزی ہوتی یقینا وہیں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا جلال ظاہر ہوتا اور یہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی غیرت ایمانی تھی کہ جب آپ کی اپنی ذات کا معاملہ ہوتا تو قطعاً سختی نہ فرماتے اور جہاں   دین کا معاملہ ہوتا تو کسی کو معاف نہ فرماتے اگرچہ ان کا سگا بیٹا یا کوئی رشتہ دار ہی کیوں   نہ ہو۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی دینی معاملے میں   سختی کو خود رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بیان فرمایا۔ چنانچہ ،
فاروقِ اعظم کی دینی معاملات میں   سختی:
حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اَرْحَمُ اُمَّتِیْ بِاُمَّتِیْ اَبُو بَكْرٍ وَاَشَدُّھُمْ فِیْ دِیْنِ اللہِ عُمَرُ وَاَصْدَقُهُمْ حَیَاءً عُثْمَانُ وَاَقْضَاھُمْ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن کبریٰ للنسائی،  کتاب عشرۃ النساء ،باب الانتصار، ج۵، ص۲۹۱، حدیث: ۸۹۱۷۔
	 کنزالعمال، کتاب الفضائل، فضائل الفاروق، الجزء:۱۲، ج۶، ص۲۶۵، حدیث:۳۵۸۳۸۔