کہنے لگی:’’ میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے عہد کیا ہےکہ اگر میں نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو امن میں دیکھا تو میں دف بجائوں گی۔‘‘ سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ اس کی یہ بات میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک پہنچائی۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ اسے کہو اپنی بات پوری کرلے۔‘‘ یہ سن کر وہ آپ کے قریب دف بجانے لگی۔ ابھی اس نے دو یا تین ضربیں ہی لگائی ہوں گی کہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ تو دف اس کے ہاتھ سے نیچے جا پڑی، اور وہ بھاگ کر پردے کے پیچھے چھپ گئی۔ سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ میں نے اسے کہا:’’ تمہیں کیا ہوا ؟‘‘ اس نے کہا: ’’ میں نے سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی آواز سنی ہےاس لیےمیں خوفزدہ ہوگئی ہوں ؟‘‘ یہ دیکھ کر تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اِنَّ الشَّیْطَانَ لَیَفِرُّمِنْ حِسِّ عُمَر یعنی شیطان عمر کی آہٹ سے بھی بھاگ جاتا ہے۔‘‘(1)
بارگاہِ رسالت میں فاروقِ اعظم کاپاس
رسول اللہ بھی فاروقِ اعظم کا لحاظ کرتے ہیں :
اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ ایک بار میں سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس حریرہ ( ایک قسم کا شوربے والا کھانا) پکا کر لائی ۔(اُمّ المومنین حضرت سیدتنا) سودہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا میرے اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے درمیان بیٹھی ہوئی تھیں ۔ میں نے ان سے کہا:’’ تم بھی کھاؤ۔‘‘ انہوں نے اِنکار کیا تومیں نے خوش طبعی کرتے ہوئے کہا: ’’کھالو ورنہ میں اسے تمہارے چہرے پر مل دوں گی۔‘‘ انہوں نے پھر انکار کیا تو میں نے حریرہ سے ہاتھ بھرا اور ان کے چہرے پرمل دیا۔ انہوں نے بھی اپنا ہاتھ حریرہ سے بھرا اور میرے چہرے پر مل دیا۔یہ دیکھ کر رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسکرا دیے۔ (اُمّ المومنین حضرت سیدتنا) سودہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے فرمایا:’’اَلْطِخِی وَجْھَھَا یعنی اس کے (سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے) چہرے پر اور ملو۔‘‘ انہوں نے میرے چہرے پراور مل دیا۔نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ریاض النضرۃ، ج۱، ص۳۰۰۔