Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
180 - 831
 حضرت عمر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )کو دیکھ کر گھبرا گئی جیسے بعض ہیبت والے آدمیوں   کو دیکھ کر بیٹھے ہوئے باتیں   کرنے والے لوگ ادھرادھر ہوجاتے ہیں   جگہ خالی کرجاتے ہیں   حالانکہ وہاں   ان کا بیٹھنا باتیں   کرنا حرام نہیں   ہوتا۔ لہٰذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں   کہ اگر یہ کام جائز تھا تو حضرت عمر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )کو دیکھ کر اس بی بی نے بند کیوں   کردیا اور اگر حرام تھا تو پہلے حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے سامنے کیوں   ہوا۔ مگر حضرات صوفیاء فرماتے ہیں   کہ یہ کام ان حضرات کے لیے درست تھا، حضرت عمر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )کے لیے درست نہ تھا اس لیے ان حضرات کے سامنے ہوتا رہا، حضرت عمر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )کے آنے پر بند ہوگیا کہ اب لہو و لعب بن گیا۔
٭…(’’اے عمر! شیطان تم سے ڈرتا ہے‘‘اس فرمان کے تحت فرماتے ہیں  :)اے عمر یہ تو ایک عورت ہے جو ایسا کام کررہی تھی جو حقیقۃً درست تھا صورۃً کھیل تھا یہ کیوں  نہ ڈر جاتی تمہاری ہیبت کا تو یہ عالم ہے کہ تم سے شیطان بھی ڈرتا ہے جو مردود دُوسروں   سے نہیں   ڈرتا۔ اس فرمان عالی میں   نہ تو اس عورت کوشیطان فرمایا گیا اور نہ اس کے اس عمل کو شیطانی کہا گیا کہ یہ عمل حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اجازت سے ہوا تھا لہٰذا حدیث بالکل ظاہر ہے یا یہ مطلب ہے کہ اب تمہارے آنے سے یہ کام غیر درست ہوگیا اور بند ہوگیا۔ 
٭…اس حدیث سے بہت سے وہ مسائل حاصل ہوئے جو ابھی شرح کے ضمن میں   عرض کیے گئے: (۱)حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی سلامتی اور تشریف آوری کی خوشی منانا عبادت مستحبہ ہے ۔ لہٰذا میلاد شریف، معراج شریف وغیرہ کی تاریخوں   میں   عید منانا، خوشیاں   کرنا عبادت ہے۔(۲) لونڈی پر پردہ نہیں  ۔ (۳)لونڈی کی آواز اجنبی سن سکتا ہے۔ (۴)دف بجانا مطلقاً منع نہیں   بلکہ لہو و لعب کے لیے ہوتو منع ہے۔(۵) اچھے اور جائز اشعار گانا اور ان کا سننا منع نہیں  ۔ (۶)حضرت صدیق و عثمان وعلی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ پر غلبۂ محبت ہے اور حضرت عمر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )پر غلبۂ اطاعت۔ لہٰذا ان حضرات کے مراتب جدا گانہ ہیں  ۔(1)
فاروقِ اعظم کی آہٹ سے بھی شیطان بھاگ جاتاہے:
اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا   سے روایت ہے کہ ایک انصاری عورت میرے پاس آکر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مرآۃ المناجیح، ج۸، ص۳۶۹۔