٭…جسروایت یا واقعے سے کوئی عقیدۂ اہلسنت ثابت ہوتا ہے تو اُس کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
٭…بعض جگہ اختلافی اقوال کوبیان کرنے کے ساتھ ساتھ اُن میں مطابقت بھی ذکر کردی گئی ہے۔
٭…مواد کو مرتب کرتے ہوئے اس بات کا خاص التزام کیا گیا ہے کہ کتاب علمی وتحقیقی مواد سے بھرپور ہو، فقط سرخیاں (Heading)لگانے پر اکتفاء نہیں کیا گیا۔
٭… روایات وواقعات کو بیان کرتے ہوئے حتی المقدور اِس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ قاری(یعنی کتاب پڑھنے والے) کا ذوق وشوق برقرار رہے۔
٭…انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور اولیائے عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کے اسمائے مبارکہ کے ساتھ دعائیہ کلمات کا التزام کیا گیا ہے۔
٭…علمائے کرام، واعظین وخطباء حضرات کے لیے مختلف روایات وواقعات میں مخصوص جملوں کی عربی عبارت مع ترجمہ بھی ذکر کردی گئی ہے۔
٭…اِس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ جو بات جس باب سے تعلق رکھتی ہے اُسی باب میں ذکر کی جائے۔
٭…بعض جگہوں پر سیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے منسوب غلط باتوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
٭…اگر کسی روایت یا واقعہ کا تعلق چند ابواب سے ہے تو ایک باب میں اُسے تفصیلی بیان کرکے دیگر ابواب میں اجمالاً بیان کیا گیا ہے نیز بعض جگہ تفصیلی واقعے والے صفحے کی طرف اِشارہ بھی کردیا گیا ہے۔
٭…کئی مقامات پر تحقیقی ووضاحتی، مفید اور ضروری حواشی بھی لگائے گئے ہیں ۔
٭…راویوں کے اسماء اور دیگر کئی مشکل اَلفاظ پر اِعراب کا بھی التزام کیا گیا ہے نیز بعض پیچیدہ الفاظ کا تلفظ بھی بیان کردیا گیا ہے۔
٭…روایات بیان کرنے میں احادیث کو ترجیح دی گئی ہے بصورت دیگر مستند کتب تاریخ کو اختیار کیا گیا ہے۔
٭…مختلف ابواب کے شروع میں تمہیدی کلمات بھی ذکر کیے گئے ہیں تاکہ اُس باب کے تحت آنے والے اُمور کی