کردیا۔‘‘(1)
مذکورہ حدیث پاک کی شرح:
مُفَسِّرِ شَھِیر، حکیمُ الامَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں :
٭…یہ نذر شرعی نہیں تھی کہ نذر شرعی میں ضروری ہے کہ جنس واجب سے ہو، دف بجانا اور گانا کہیں واجب نہیں ۔ نذر بمعنی نذرانہ عقیدت ہے، ہرشخص اپنی حیثیت کے لائق ہی نذرانہ اس بارگاہِ عالی میں پیش کرتا ہے، اس لونڈی کے پاس یہ ہی نذرانہ تھا:
کچھ پاس نہیں میرے کیا نذر کروں تیرے
اک ٹوٹا ہوا دل ہے اور گوشۂ تنہائی
٭…ذکر بجانے کا ہے، گانے کی اجازت بھی اس میں داخل ہے۔(مرقات)یعنی گاتے بجاتے اپنے دل کے ارمان پورے کرے۔ خیال رہے کہ حضور انور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی سلامتی تشریف آوری پر خوشی منانا بہترین عبادت ہے۔ اس لیے یہ نذر درست ہوئی۔ نذر عبادت کی ہوتی ہے۔(مرقات واشعہ) گناہ کی نذر درست نہیں ۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں : لَانَذْرَ فِیْ مَعْصِیَۃٍ (نسائی شریف)۔
٭…خیال رہے کہ جھانجھ کے ساتھ دف وغیرہ ممنوع ہے، بغیر جھانجھ بلا ضرورت کھیل کود کے لیے بھی ممنوع غرض صحیح کے لیے دف، تاشہ بجانا جائز ہے۔ لہٰذا اعلان نکاح، روزے کے افطار یا سحری کے لیے، یوں ہی غازیوں کے لیے دف بجانا جائز ہے۔ یہ دف جھانجھ سے اور لہو ولعب سے خالی تھی لہٰذا جائز تھی۔ لونڈی پر نہ تو پردہ واجب ہے نہ اس کی آواز عورت ہے، اسے اجنبی شخص دیکھ بھی سکتا ہے، اس کی آواز بھی سن سکتا ہے۔ لہٰذا یہاں یہ اعتراض نہیں کہ حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے اجنبی عورت کو کیوں دیکھا اور اس کی آواز کیوں سنی، نہ اس سے مروجہ ناچ گانے پر دلیل پکڑی جاسکتی ہے کہ اب آزاد عورتیں بن سنور کر گاتی ہیں یہ حرام قطعی ہے۔ اس حدیث سے بہت لوگ دھوکہ کھا گئے ہیں ۔
٭…یہ ہیبتِ فاروقی تھی کہ اس بی بی نے وہ کام بند کردیا جو جائز بلکہ عبادت تھا مگر لہو و لعب کی صورت میں تھا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترمذی ،کتاب المناقب، مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب، ج۵، ص۳۸۶، حدیث:۳۷۱۰۔