چہرہ انور کھول کر فرمایا کہ ’’اے ابوبکر ہر قوم کی عید ہوتی ہے آج ہماری عید ہے، انہیں خوشی منانے دو۔‘‘ بہرحال یہ حدیث بالکل واضح ہے کہ حضرت اُمّ المؤمنین (سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا )بھی اس وقت بچی تھیں اور وہ ناچنے والی بھی بچی ، ناچ دیکھنے والے بھی بچے تھے، لہٰذا یہاں بے پردگی کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔(1)
آپ کی آمد اور شیطان رفو چکر:
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک بار تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک جنگ سے واپس تشریف لائے تو ایک حبشیہ لڑکی آکر کہنے لگی:’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو سلامتی سے واپس لائے گا تومیں آپ کے سامنے دف بجائوں گی اور گائوں گی۔‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’اگر تم نے نذر مانی ہے تو بجا لو نہیں تو رہنے دو۔‘‘ یہ سن کر وہ دف بجانے لگی۔اسی اثنا میں امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ آگئے، وہ دف بجاتی رہی،اسی طرح حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اور پھر حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تشریف لائے مگر وہ برابر دف بجاتی رہی۔ پھر اچانک امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تشریف لے آئے۔جیسے ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی آمد ہوئی ،لڑکی نے فوراً دف نیچے رکھی اور خود اس کے اوپر بیٹھ گئی۔ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:
٭… ’’اِنَّ الشَّيیْطَانَ لَیَخَافُ مِنْكَ یَا عُمَرُ یعنی اے عمر! شیطان تم سے خوف کھاتا ہے۔‘‘
٭…’’اِنِّیْ كُنْتُ جَالِسًا وَهِیَ تَضْرِبُ یعنی میں بیٹھا ہوا تھا تب بھی یہ دف بجاتی رہی۔‘‘
٭…’’فَدَخَلَ اَبُو بَكْرٍ وَهِیَ تَضْرِبُ پھر ابوبکر آئے تب بھی یہ دف بجاتی رہی۔‘‘
٭…’’ثُمَّ دَخَلَ عَلِیٌّ وَهِیَ تَضْرِبُ پھر علی آئے تب بھی یہ دف بجاتی رہی۔‘‘
٭…’’ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِیَ تَضْرِبُ پھر عثمان آئے تب بھی یہ دف بجاتی رہی۔‘‘
٭…’’فَلَمَّا دَخَلْتَ اَنْتَ یَا عُمَرُ اَلْقَتِ الدُّفَّ لیکن اے عمر! جیسے ہی تم داخل ہوئے اس نےدف بجانا بند
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مرآۃ المناجیح، ج۸، ص۳۷۲۔