برتاؤ کرو، اپنی بیوی کے جائز شوق حتی المقدور پورے کرو۔ معلوم ہوا کہ بچوں کا کھیلنا اور انہیں کھیل دکھانا بالکل جائز ہے۔
٭…(حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ)حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے سامنے کھڑے ہوگئے، آڑ بن گئے، میں نے حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کندھے پر اپنی ٹھوڑی رکھ دی۔ کندھے اور سر مبارک کے درمیان سے ان کا کھیل دیکھنے لگی:
ناز برداری تمہاری کیوں نہ فرمائے خدا
نازنین حق نبی ہیں تم نبی کی نازنین
آپ کا لقب ہے ’’محبوبۂ محبوبِ رب العالمین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ۔‘‘ ہم سب کو فخر ہے کہ ہم اس عظمت والی ماں کی اولاد ہیں ۔
٭…(حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ)میں بہت دیر تک یہ تماشہ دیکھتی رہی اور حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میری خاطر کھڑے رہے، میں اگرچہ تماشہ سے سیر ہوچکی تھی، مگر میں یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مجھ سے کتنی محبت ہے اور میری خاطر حضور کب تک یہاں قیام فرمارہیں گے۔
٭…(تمام لوگوں کے)بھاگنے کی وجہ ابھی پچھلی حدیث میں عرض کی گئی کہ یہ کام جائز تھا مگر صورۃً کھیل تماشا تھا۔ حضرت عمر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )کی ہیبت چھوٹوں بڑوں سب کے دلوں میں تھی، یہ رعب وہیبت رب تعالی کا عطیہ تھی۔
٭…یہ شیاطین جو اس وقت بھاگے یہ وہ شیاطین تھے جو انسانوں کے ساتھ رہتے یا جو بازار میں مجمعوں میں رہتے ہیں ، حدیث شریف میں ہے کہ بازاروں میں مساجد میں ، مجمعوں میں شیاطین رہتے، مسجدوں کے شیاطین وضو اور نماز میں بہکانے کے لیے رہتے ہیں ۔ بازاروں میں گناہ کرانے کے لیے اس سے لازم نہیں آتا کہ بازاروں اور مسجدوں میں جانا حرام ہو یا وہاں کی حاضری شیطانی کام ہو۔ دوسری روایات میں ہے کہ عید کے دن بچے حدود مسجد میں کھیل رہے تھے، حضرت عمر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )نے انہیں بھگانا چاہا تو حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: عمر آج عید ہے انہیں عید منانے دو۔ حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا )کے پاس کچھ بچیاں گابجارہی تھیں ، حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم چادر اوڑھے لیٹے تھے، جناب صدیق اکبر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )نے انہیں منع کیا تو