انسانی و جناتی شیطان عمر سے بھاگتے ہیں :
اُمّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ ایک بار دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم گھر میں تشریف فرما تھے، اچانک ہم نے بازار سے شور و غل اور بچوں کی آوازیں سنیں ۔ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اٹھ کر دیکھا تو ایک حبشی لڑکی اچھل کود کررہی تھی اور بچے اس کے گرد شور مچارہے تھے۔ سرکارِ والا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:’’ اے عائشہ ! آئو دیکھو۔‘‘ تو مَیں آئی اور اپنی ٹھوڑی حضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کندھے پر رکھ کر آپ کے کندھے اور سر کے درمیان سے دیکھنے لگی۔ آپ نے کئی بار فرمایا:’’ تم ابھی سیر نہیں ہوئیں ؟‘‘ اور میں ہر بار ’’ نہیں ‘‘ میں جواب دے دیتی تاکہ معلوم کر سکوں کہ آپ کے ہاں میرا مقام کیا ہے۔‘‘میں نے دیکھا کہ اچانک بازار میں حضرت عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ آگئے۔ان کی آمد ہی تھی کہ سب لوگ بھاگ گئے اور وہ بچی اکیلی ر ہ گئی۔‘‘ سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ یہ دیکھ کر حضور نبی ٔکریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ اِنِّیْ لَاَنْظُرُ اِلٰی شَیَاطِیْنِ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ قَدْ فَرُّوا مِنْ عُمَرَ یعنی میں دیکھ رہا ہوں کہ انسانی اور جناتی شیطان عمر کو دیکھ کر بھاگ رہے ہیں ۔‘‘(1)
مذکورہ حدیث پاک کی شرح:
مُفَسِّرِ شَھِیر، حکیمُ الامَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں :
٭…ناچنے والی لونڈی تھی وہ بھی بچی اور اس کا تماشہ دیکھنے والے بھی مدینہ منورہ کے بچے تھے۔ (حدیث پاک میں موجود لفظ)’’تَزْفَنُ‘‘ بنا ہے ’’زَفْنٌ‘‘ سے بمعنی پاؤں زمین پر مارنا ۔اس سے مراد ہے ’’ناچنا۔‘‘ عموماً بچے ایسی حرکتیں کرتے ہیں یہ اُن کا کھیل کود اورشُغل ہوتاہے۔
٭…اُس وقت اُمّ المؤمنین (حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ) بھی نو عمر بچی ہی تھیں ، آپ کا کھیل دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ یہ ہے حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اَخلاق کریمانہ، ہم کو تعلیم دی کہ گھر والوں سے ایسا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترمذی ،کتاب المناقب، باب فی مناقب عمر بن الخطاب، ج۵، ص۳۸۷، حدیث:۳۷۱۱۔