کہا: ’’نماز کے لئے جارہا ہوں ۔‘‘ کہنے لگا: ’’نماز تو ہو چکی، اب آپ کی نمازِجمعہ فوت ہوگئی ہے۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کو پہچان لیا اور اسے گردن اور گُدّی سے پکڑ کر کہا: ’’تیرا ستیاناس ہو! کیا تو عابدوں اور زاہدوں کا سردار نہ تھا؟ تجھے ایک سجدے کا حکم دیا گیا مگر تُو نے انکار کیا، تکبر کیا، اور کافروں میں سے ہوا، اب قیا مت تک تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دور رہے گا۔‘‘تو وہ کہنے لگا: ’’اے عمر! ذرا خیال سے بول، کیا فرمانبرداری میرے بس میں ہے یا بدبختی میری مشیّت کے تحت ہے؟ میں نے عرش کے نیچے بہت سجدے کیے، یہاں تک کہ آسمان کا کوئی حصہ ایسا نہیں جس پرمیں نے رکوع وسجود نہ کیے ہوں ۔ اتنے قرب کے باوجود مجھے کہا گیا: (فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۙ۳۴ وَّ اِنَّ عَلَیْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ۳۵) (پ۱۴،الحجر:۳۴، ۳۵)ترجمۂ کنزالایمان:’’تو جنت سے نکل جا کہ تو مردو د ہے۔ اور بے شک قیامت تک تجھ پر لعنت ہے ۔‘‘پھر کہنے لگا:’’اے عمر! کیا تمہیں یقین ہے کہ تم اللہ
عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے امن میں ہو؟‘‘ (فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠۹۹) (پ۹، الاعراف: ۹۹) ترجمۂ کنزالایمان: ’’تو اللہ کی خفی تدبیر سے نڈر نہیں ہوتے مگر تباہی والے۔‘‘تو میں نے اس سے کہا: ’’میری نظروں سے اوجھل ہوجا! مجھے طاقت نہیں کہ (اس مسئلہ میں ) تجھ سے بحث کروں ۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کو شیطان غلط کام کا حکم نہیں دیتا:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہر شخص کے ساتھ نیکی کا ایک فرشتہ ہے جو اسے نیکی کی طرف بلاتاہے اورایک بدی کا شیطان ہوتاہےجو اسے برائیوں کی طرف بلاتاہے، لیکن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ جو بدی والا شیطان تھا وہ بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو برے کاموں کی طرف بلانے سے ڈرتا تھا۔ چنانچہ،
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ارشاد فرماتے ہیں :’’اِنَّا كُنَّا لَنَرٰى شَیْطَانَ عُمَرَ یَھَابُہُ اَنْ یَاْمُرَہُ بِالْخَطِیْئَۃِ یَعْمَلُھَا یعنی ہم تمام صحابہ یہی سمجھتے تھے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ جو شیطان ہے وہ اس بات سے ڈرتا ہے کہ آپ کو کسی غلط کام کا حکم دے۔‘‘(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الروض الفائق، ص۱۳۔
2…کنز العمال ، کتاب الفضائل، فضل الشیخین، الجزء:۱۳، ج۷، ص۱۲، حدیث:۳۶۱۴۱ ملتقطا۔