ذکر کے ذریعے شیطان کا بھگانا چاہو گے جیسا کہ حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے شیطان دور بھاگ جاتا تھا تو ایسا ناممکن ہے کیونکہ تمہاری مثال اس شخص کی سی ہے جو پرہیز سے پہلے دوائی پینا چاہتاہے حالانکہ معدہ مرغن غذاؤں سے بھرا ہوا ہے۔ نیز وہ ایسا کرکے اس شخص کی طرح نفع حاصل کرنا چاہتاہے جو پرہیز اور معدہ خالی کرنے کے بعد دوائی پیتاہے۔جان لو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر دوا ہے اور تقویٰ پرہیز ہے جو دل کو شہوات سے خالی رکھتاہے لہٰذا جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر شہوات سے خالی دل میں اترتا ہے تو وہاں سے شیطان ایسے بھاگتاہے جیسے غذا سے خالی معدہ میں دوا اترنے سے بیماری بھاگتی ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمان عالیشان ہے: (اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ) (پ۲۶، ق:۳۷) ترجمۂ کنزالایمان: ’’بے شک اس میں نصیحت ہے اس کے لیے جو دل رکھتا ہو۔‘‘
مزید ارشاد فرماتے ہیں : ’’جب آپ حالت نماز میں ہوں تو اپنے دل کی کڑی نگرانی کریں اور دیکھیں کہ کیسے شیطان اسے بازاروں ، دنیا بھر کے حساب وکتاب اور دشمنوں کے جوابات دینے کی جانب کھینچ کر لے جاتاہے؟ اور کیسے آپ کو دنیا بھر کی مختلف وادیوں اور ہلاکت خیزیوں کی سیر کراتاہے؟ یہاں تک کہ فضولیات دنیا میں سے جو چیز آپ کو یاد نہیں آتی وہ بھی حالت نماز میں یاد آجاتی ہے۔ تو شیطان آپ کے دل پر یلغار اسی وقت کرتاہے جبکہ آپ نماز اس حالت میں ادا کررہے ہوں کہ دل بحث ومباحثہ میں مشغول ہو۔ اس لمحے دل کی خوبیاں وخامیاں سب ظاہر ہوجائیں گی۔ آپ اگر واقعی شیطان سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو تقوی کے ساتھ پہلے پرہیز اپنائیں پھر اس کے بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذکر کی دوا استعمال کریں تو شیطان آپ سے ایسے ہی بھاگے گا جیسے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے بھاگتاتھا۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم اور بوڑھے عابد کی شکل میں شیطان:
دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۶۴۹صفحات پر مشتمل کتاب ’’حکایتیں اور نصیحتیں ‘‘ ص ۳۸پر ہے: امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نماز ِجمعہ کے لئے نکلا تومجھے ایک بوڑھے عابد کی شکل میں ابلیس ملا۔ اس نے مجھ سے پوچھا: ’’اے عمر! کہا ں کا ارادہ ہے؟‘‘ میں نے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اصلاحِ اعمال، جلداوّل، ص۲۱۲۔