Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
173 - 831
 پِتا پانی ہوجاتا (جوش دب جاتا)، حالانکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ظاہری وضع قطع میں   نہایت ہی سادہ شخصیت کے مالک تھے۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اس ہیبت سے نہ صرف انسان کانپتے بلکہ شیطان پربھی لرزہ طاری ہو جاتا تھا۔چنانچہ،
ہیبت فاروقِ اعظم اور شیطان
فاروقِ اعظم کی ہیبت اور شیطان کا فرار :
حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے روایت ہے کہ ایک دن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں  اس وقت حاضر ہوئے جب کچھ قریشی عورتیں   آپ سے سوالات کررہی تھیں   اوران کی آواز بھی کافی اونچی تھی۔جیسے ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ داخل ہوئے تو وہ عورتیں   آپ کی آواز کو سنتے ہی دبک گئیں   اورفوراً ہی خاموشی سادھ لی۔ یہ منظر دیکھ کر خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسکرادیئے۔ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان عورتوں   کو مخاطب کرکے کہا:’’یَا عَدْوَاتِ اَنْفُسِهھِنَّ تَھِبْنَنِیْ وَلَا تَھِبْنَ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ  وَ سَلَّمَ یعنی اے اپنی جان کی دشمنو! مجھ سے تمہیں   خوف آتا ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے نہیں   آتا۔‘‘ تو انہوں   نے عرض کیا: ’’اِنَّكَ اَفَظُّ مِنْ رَّسُوْلِ اللہِ وَاَغْلَظُ یعنی آپ مزاج اور گفتگو کے لحاظ سے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے زیادہ سخت ہیں  ۔‘‘یہ سن کر رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا : ’’یَا عُمَرُ مَا لَقِیَكَ الشَّیْطَانُ سَالِكًا فَجًّا اِلَّا سَلَكَ فَجًّا غَیْرَ فَجِّكَ یعنی اے عمر ! شیطان تمہیں   کسی راستے پر چلتے ہوئے دیکھتا ہے تو تمہارا راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرلیتا ہے۔‘‘(1)
شیطان کے راستہ چھوڑنے کی وجہ:
عارف باللّٰہ، ناصح الامۃ، علامہ عبد الغنی بن اسماعیل نابلسی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  اس حدیث پاک کو بیان کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں  : ’’شیطان حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا راستہ کیوں   چھوڑتا تھا؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ دل شیطان کی چراگاہ اور خوراک نہیں   بلکہ اس کی چراگاہ اور خوراک تو شہوات ہیں  ۔ تو اے لوگو! تم جب محض   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی،باب  مناقب عمر بن الخطاب، ج۲، ص۵۲۶، حدیث:۳۶۸۳ ملتقطا۔