آسمانی کتابوں میں فاروقِ اعظم کا ذکر
(1)امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے مؤذن حضرت سیِّدُنا اقرع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ ایک بار آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایک پادری سے استفسار فرمایا: ’’ھَلْ تَجِدُوْنَا فِیْ شَیْءٍ مِّنْ کُتُبِکُمْ یعنی کیا تم اپنی کتابوں میں ہمارے بارے میں بھی کچھ لکھا ہوا پاتے ہو؟‘‘ اس نے عرض کی: ’’ہم اپنی کتابوں میں آپ کی صفات اور اعمال وغیرہ کا ذکر پاتے لیکن اسماء کا نہیں ۔‘‘ فرمایا: ’’کَیْفَ تَجِدُوْنِیْ یعنی میرے بارے میں تم کیا لکھا ہوا پاتے ہو؟‘‘ اس نے عرض کی: ’’قَرْنٌ مِّنْ حَدِیْدٍ یعنی جی ہاں ! ہماری کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ آپ لوہے کا سینگ ہیں ۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’لوہے کا سینگ! یہ کیا ہے؟‘‘ اس نے عرض کی: ’’امیر شدید یعنی (دینی معاملے میں )سختی کرنے والا حاکم۔‘‘آپ نے شکر ادا کرتے ہوئے فرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سب سے بڑا ہے اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں ۔‘‘(1)
(2)حضرت سیِّدُنا عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہگھوڑے پر سوار ہوئے تو آپ کی پنڈلی سے کپڑا ہٹ گیا تو اہل نجران نے دیکھا کہ وہاں ایک سیاہ نشان ہے۔ تو وہ کہنے لگے: ’’ھٰذَا الَّذِیْ نَجِدُ فِیْ کِتَابِنَا یُخْرِجُنَا مِنْ اَرْضِنَا یعنی یہی وہ شخص ہے جس کے بارے میں ہماری کتابوں میں لکھا ہے کہ وہ ہمیں ہماری زمین سے نکال دے گا۔‘‘(2)
ہیبت فاروقِ اعظم
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ حق وصداقت کے شہنشاہ تھے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ عظیم نعمت بارگاہِ خداوندی سے بوسیلہ بارگاہِ رسالت عطا ہوئی تھی، حق وصداقت کے ساتھ ساتھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ذات مبارکہ میں ایسی ہیبت رکھی تھی جو باطل کو جھنجوڑ کے رکھ دیتی تھی۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی یہ ہیبت حق وباطل کے درمیان ایک آڑ تھی، اس ہیبت کے سبب بڑے بڑے سُورماؤں کا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مناقب امیر المؤمنین عمر بن الخطاب، الباب الرابع، ص۱۵۔
2…مناقب امیر المؤمنین عمربن الخطاب، الباب الرابع، ص۱۶۔