Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
171 - 831
فاروقِ اعظم ’’صدیق‘‘ ہیں  
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ’’صدیق وہ ہوتاہے جیسا وہ کہہ دے بات ویسی ہی ہوجائے۔‘‘چنانچہ حکیم الامت مفتی احمدیار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ارشاد فرماتے ہیں  : ’’صدیق وہ کہ جیسا وہ کہہ دے بات ویسی ہی ہوجائے۔ اسی لیے تو (حضرت سیِّدُنا یوسف عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کے ساتھ جودوقیدی تھے ان میں   سے )شاہی ساقی (یعنی بادشاہ کو شراب پلانے والے )نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو صدیق کہا کیونکہ اس نے دیکھا کہ جو آپ نے کہا تھا وہ ہی ہوا ، عرض کیا: یُوْسُفُ اَیُّھَا الصِّدِّیْقُ ۔‘‘(1)
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ خصوصی فضل وکرم تھا کہ جو بات آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے منہ سے نکلتی اکثر وہ پوری ہوجاتی۔چنانچہ،
فاروقِ اعظم نے جو کہہ دیا وہ ہوگیا:
ایک بار ربیعہ بن امیہ بن خلف نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے اپنا خواب بیان کیاکہ ’’میں   ایک ہرے بھرے میدان میں   ہوں  ، پھر اس سے نکل کر ایک ایسے چٹیل میدان میں   آگیا جس میں   دور دورتک گھاس یادرخت کا نام و نشان بھی نہیں   تھا ۔جب میں   نیند سے بیدار ہوا تو واقعی میں   ایک بنجر میدان میں   تھا۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس کے خواب کی تعبیر بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’تو ایمان لائے گا ، پھرا س کے بعد کافر ہوجائے گا اورکفرہی کی حالت میں   مرے گا۔‘‘ اپنے خواب کی یہ تعبیر سن کر وہ کہنے لگا : ’’حضرت! میں   نے کوئی خواب نہیں   دیکھا ہے ،میں   نے تو یوں   ہی جھوٹ موٹ آپ سے کہہ دیا ہے۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’تو نے خواب دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو مگر میں   نے جو تعبیر بیان کردی ہے وہ اب پوری ہوکر رہے گی۔‘‘ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ مسلمان ہونے کے بعد اس نے شراب پی،سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس کو کوڑوں   کی سزادی اور شہر بدر کر کے خیبر بھیج دیا۔ وہ وہاں   سے بھاگ کر روم کی سرزمین میں   چلا گیا اور وہاں   جاکر نصرانی ہوگیا، پھر مرتد ہوکر کفر ہی کی حالت میں   مرگیا۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مرآۃ المناجیح، ج۸،ص۱۶۲۔
2…ازالۃ الخفاء ،ج۴،ص۱۰۱۔