Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
170 - 831
 سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے چہرے پر کبھی ہنسی نہ دیکھی حتی کہ آپ دنیا سے تشریف لے گئے۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کے حق میں   درستی کی دعا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب بھی کلام فرماتے توآپ کا کلام حق و صداقت پر ہی مبنی ہوتا اور آپ جوبھی کلام فرماتے اس میں   مُصِیْب یعنی درست ہی ہوتے کہ خود رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اصابت (درستی)کی دعا دی۔چنانچہ،
حضرت سیِّدُنا ازرق بن قیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ ایک بار ہمیں   کسی صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نماز پڑھائی جن کی کنیت اَبُوْ رِمْثَہ تھی۔نماز پڑھانے کے بعد وہ ہماری طرف منہ پھیر کر بیٹھ گئے اور فرمانے لگےکہ ایک بار میں   نے اسی طرح رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیچھے نماز ادا کی ۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق وعمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بھی صف اول میں   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دائیں   جانب تشریف فرماتھے۔ حسن اَخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے نماز مکمل فرماتے ہوئے دائیں   بائیں   اس طرح سلام پھیرا کہ ہم نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے رخ روشن کی زیارت کی۔پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی طرف اسی طرح چہرہ اقدس پھیرکر بیٹھ گئے جس طرح میں   آپ لوگوں   کے سامنے بیٹھا ہوں  ۔ایک شخص دو رکعت نفل پڑھنے کے لیے کھڑا ہوگیا۔جیسے ہی وہ کھڑا ہوا تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جلدی سے اٹھے اور اس کے قریب جاکر اس کے کندھے کو پکڑ کر جھنجھوڑا اور فرمایا: ’’بیٹھ جاؤ، کیونکہ اہل کتاب اسی بات سے تو ہلاک ہوئے ہیں   کہ انہوں   نے فرائض اور نوافل کے مابین فاصلہ نہ رکھا۔‘‘ حضور نبی ٔپاک، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا:’’اَصَابَ اللہُ بِكَ یَا ابْنَ الْخَطَّابِ یعنی اے عمر بن خطاب اللہ عَزَّ وَجَلَّ  تجھے ہمیشہ مُصِیْب  (یعنی درست بات کرنے والا )رکھے۔‘‘(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کنزالعمال، کتاب الفضائل، فضل الفاروق، الجزء:۱۲، ج۶، ص۲۶۴، حدیث:۳۵۸۳۳۔
2…ابو داود، کتاب الصلوۃ، باب فی الرجل یتطوع فی مکانہ الذی صلی فیہ المکتوبۃ، ج۱، ص۳۷۶، حدیث:۱۰۰۷۔