Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
169 - 831
حق وصداقت کے امین کا جنتی محل:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  سے روایت ہے کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ رسالت میں   عرض کیا:’’یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! مجھے بھی بتائیے کہ معراج کی رات آپ نے جنت میں   کیا کیا دیکھا؟‘‘سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اے عمر بن خطاب! اگر میں   تمہارے درمیان اتنا عرصہ رہوں   جتنا عرصہ حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام اپنی قوم میں   (ایک ہزار سال تک)  رہے اور پھر میں   تمہیں   وہ جنتی واقعات ومشاہدات بتاؤں   توبھی وہ ختم نہ ہوں  ۔لیکن اے عمر! جب تم نے مجھے یہ بول ہی دیا ہے کہ مجھے جنت کی باتیں   بتائیے تو پھر میں   تمہیں   وہ بات بتاتا ہوں   جو تمہارے علاوہ میں   نے کسی کو نہ بتائی۔ (اور وہ یہ ہے کہ )میں   نے جنت میں   ایک ایسا عالیشان محل دیکھا جس کی چوکھٹ جنتی زمین کے نیچے تھی اور اس کا بالائی حصہ جوف عرش میں   تھا۔میں   نے جبریل سے پوچھا : اے جبریل! کیا تم اس عالیشان محل کے بارے میں   جانتے ہوجس کی چوکھٹ جنتی زمین کے نیچے اور بالائی حصہ عرش کے درمیان میں   ہے۔؟ تو جبریل نے عرض کیا: یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں   نہیں   جانتا۔ میں   نے پھر پوچھا: اے جبریل! اس محل کی روشنی توایسی ہے جیسے دنیا میں   سورج کی روشنی، چلو یہی بتادو کہ اس تک کون پہنچے گا اور اس میں   کون رہائش اختیار کرے گا؟ تو جبریل امین نے عرض کیا: یَسْكُنُھَا وَ یَصِیْرُ اِلَیْھَا مَنْ یَّقُوْلُ الْحَقَّ وَیَھْدِیْ اِلَی الْحَقِّ وَاِذَا قِیْلَ لَہُ الْحَقُّ لَمْ یَغْضِبْ وَمَاتَ عَلَی الْحَقِّ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اس محل میں   وہ رہے گا جو صرف حق بات کہتاہے اور حق بات کی ہدایت دیتاہےاور جب اسے کوئی حق بات کہتاہے تو وہ غصہ نہیں   کرتااور اس کا حق پر ہی انتقال ہوگا۔‘‘میں   نے پوچھا: اے جبریل! کیا تمہیں   اس کا نام معلوم ہے؟ عرض کیا: جی ہاں   یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وہ ایک ہی شخص تو ہے۔ میں   نے پوچھا: اے جبریل! وہ ایک کون ہے؟ عرض کیا: عمر بن خطاب۔‘‘
یہ سن کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر رقت طاری ہوگئی اور آپ غش کھا کر زمین پر تشریف لے آئے۔ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں  : ’’اس واقعے کے بعد ہم نے