عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’عُمَرُ مَعِیَ وَاَنَا مَعَ عُمَرَ وَالْحَقُّ بَعْدَہُ مَعَ عُمَرَ حَیْثُ كَا نَ یعنی عمر میرے ساتھ ہے اور میں عمر کے ساتھ ہوں ، میرے بعد عمر جہاں بھی ہو حق اس کے ساتھ ہوگا۔‘‘(1)
حق میرے بعد فاروق کے ساتھ ہوگا:
ایک روایت میں ہے کہ حسن اَخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اُدْنُ مِنِّیْ وَاَنْتَ مِنِّیْ وَاَنَا مِنْكَ وَالْحَقُّ بَعْدِیْ مَعَكَ یعنی اے عمر !میرے قریب آجائو، تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں ، حق میرے بعد تمہارے ساتھ ہوگا۔(2)
فاروقِ اعظم کی زبان پر فرشتہ بولتا ہے:
امیر المؤمنین حضرت مولا علی مشکل کشا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ’’ كُنَّا نَتَحَدَّثُ اَنَّ مَلَكًا یَنطِقُ عَلٰی لِسَانِ عُمَرَ یعنی ہم کہا کرتے تھے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زبان پر فرشتہ بولتاہے۔ ‘‘(3)
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا مولا علی علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں :’’ ہم اصحاب نبی کا یہی گمان تھا کہ عمر کی زبان پر فرشتہ بولتا ہے۔‘‘(4)
حق وصداقت فاروقِ اعظم کے ساتھ ہے:
حضرت سیِّدُنا فضل بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اَلصِّدْقُ وَالْحَقُّ بَعْدِیْ مَعَ عُمَرَ حَیْثُ كَا نَ یعنی حق وصداقت میرے بعد عمر کے ساتھ ہے وہ جہاں بھی رہیں ۔‘‘(5)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… فضائل خلفاء الراشدین لابی نعیم، ص۱۸، حدیث:۱۱ ، معجم اوسط ،من اسمہ ابراھیم ،ج۲، ص۹۲، حدیث:۲۶۲۹۔
2…تاریخ واسط، ذکر ولاۃ عمر بن الخطاب، ص۱۳۲، ریاض النضرۃ ،ج۱، ص۲۹۸۔
3…حلیۃ الاولیاء،عمر بن الخطاب،ج۱،ص۷۷،الرقم:۹۶۔
4…مسند امام احمد ،مسند علی بن ابی طالب ،ج۱، ص۲۲۶، حدیث:۸۳۴۔
5…معجم کبیر،عطاء بن ابی۔۔۔الخ،ج۱۸،ص۲۸۱،حدیث:۷۱۸ملتقطا۔