رکھنے کے بعد میرا چہرہ زمین سے اس طرح ملا دینا کہ درمیان میں کوئی چیز حائل نہ ہو۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم حق وصداقت کے شہنشاہ
فاروقِ اعظم کی زبان اور دل پر حق نازل فرما دیا:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’اِنَّ اللہَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِہٖ یعنی بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّنے عمر فاروق کی زبان اور دل پر حق جاری فرما دیا ہے۔‘‘(2)
فاروقِ اعظم حق ہی کہتے ہیں اگرچہ کڑوا ہو:
حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’رَحِمَ اللہُ عُمَرَ یَقُولُ الْحَقَّ وَاِنْ كَانَ مُرًّا تَرَكَہُ الْحَقُّ وَمَا لَہُ صَدِیْقٌ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّعمر پر رحم فرمائے کہ وہ حق ہی کہتے ہیں اگرچہ کڑوا ہواور حق بات کہنے سے ان کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ ان کا کوئی دوست نہیں ۔‘‘(3)
حق فاروقِ اعظم کی زبان پر رکھ دیا گیا :
حضرت سیِّدُنا ابو ذر غفاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اِنَّ اللہَ تَعَالٰی وَضَعَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ یَقُولُ بِہ ٖیعنی بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حق عمر کی زبان پر رکھ دیا ہے وہ حق ہی بولتے ہیں ۔‘‘ (4)
فاروقِ اعظم جہاں بھی ہوں حق ان کے ساتھ ہوگا:
حضرت سیِّدُنا فضل بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ والا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…موسوعۃ آثار الصحابۃ،مسند آثار الفاروق ۔۔۔الخ ،ج۱،ص۱۴۱ ، الرقم:۷۱۳۔
2…ترمذی،کتاب المناقب، مناقب ابی حفص عمربن الخطاب، ج۵، ص۳۸۳، حدیث: ۳۷۰۲۔
3…ترمذی ،کتاب المناقب،مناقب علی بن ابی طالب، ج۵، ص۳۹۸، حدیث:۳۷۳۴ ملتقطا۔
4…ابو داود ،کتاب الخراج والفی والامارۃ، باب فی تدوین العطاء، ج۳، ص۱۹۳، حدیث:۲۹۶۲۔