Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
166 - 831
(یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو)جنت کی بشارت عطا فرمائی مگر اس کے باوجود آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے فتنوں   اورمنافقین سے متعلق احوال میں   حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے راز دار صحابی حضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے استفسارفرمایا: ’’اے حذیفہ! کیامنافقین میں   میرا نام بھی ہے؟‘‘ تو حضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے عرض کی: ’’اے امیر المؤمنین!   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! آپ ان میں   سے نہیں   ۔‘‘ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں   میرے نفس نے میرے احوال کومشتبہ تو نہیں   کر دیا اور میرے عیوب کو مجھ سے چھپا تو نہیں   لیا اوریہ خوف اتنا زیادہ ہوا کہ انہوں   نے رسولِ کائنات ،فخرِ موجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف سے ملنے والی جنت کی بشارت کو چند ایسی شرائط سے مشروط جانا جوآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  میں   نہ پائی جاتی تھیں  ، لہٰذا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے اس بشارت سے اپنے آپ کو مطمئن نہ کيا ۔ ‘‘
فاروقِ اعظم بچوں   سے دعا کرواتے:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن بریدہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  بسا اوقات چھوٹے چھوٹے بچوں   کا ہاتھ پکڑ کر لے آتے اور ان سے ارشاد فرماتے: ’’اُدْعُ لِیْ فَاِنَّکَ لَمْ تَذْنَبْ بَعْدُ یعنی میرے لیے دعا کرو کیونکہ تم نے ابھی تک گناہ نہیں   کیا۔‘‘(1)
دعا کرو۔۔۔ عمربخشاجائے:
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے میں   یہ بھی منقول ہے کہ آپ مدینہ منورہ کے کمسن یعنی نابالغ بچوں   سے اپنے لیے یوں   دعا کرواتے کہ ’’دعا کرو! عمر بخشا جائے۔‘‘(2)
  اللہعَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیر سے ڈرتے:
امیر المؤمنین حضر ت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیر سے ہمیشہ ڈرتے تھےیہاں   تک آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے اپنے فرزندحضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو یہ وصیت کردی تھی :’’مجھے لحد میں  
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مناقب امیر المؤمنین عمر بن الخطاب، الباب الستون، ص۱۸۱۔
2…فضائل دعا ، ص۱۱۲۔