Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
165 - 831
حضرت سیِّدُنا ابو بردہ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ میں   نے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے کہا کہ :’’اِنَّ اَبَاكَ وَاللہِ خَيْرٌ مِنْ اَبِیْ یعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! یقینا تمہارے والد میرے والد سے افضل ہیں  ۔‘‘ (1)
وقت وفات بھی ادائیگی قرض کی فکر:
 امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  پر اَسّی ہزار قرض تھے وقتِ وفات آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو بلا کر فرمایا:’’بِعْ فِیْھَا اَمْوَالَ عُمَر فَاِنْ وَفَتْ وَاِلَّافَسَلْ بَنِیْ عَدِیْ فَاِنْ وَفَتْ وَاِلَّافَسَلْ قُرَیْشاً وَلَا تَعُدْھُمْ یعنی میرے دَین (قرض) کو ادا کرنے کے لیے اوّلاً تو میرا مال بیچنا اگر کافی ہو جائے فبہا، ورنہ میری قوم بنی عدی سے مانگ کر پورا کرنا اگر یُوں   بھی پورا نہ ہو تو قریش سے مانگنا اور ان کے سوا اوروں   سے سوال نہ کرنا۔‘‘پھر حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: ’’اِضْمَنْھَا یعنی اے میرے بیٹے!تم میرے قرض کو ادا کرنے کی ضمانت لے لو۔‘‘ وہ ضامن ہو گئے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تدفین سے پہلے اکابر مہاجرین وانصار کو گواہ کرلیا کہ میرے والد محترم کے اَسّی ہزار کی ادائیگی اب مجھ پر ہے۔ پھرایک ہفتہ نہ گزرا تھا کہ سارا قرض ادا کردیا۔(2)
فاروقِ اعظم اور اللہ عزوجل کی خفیہ تدبیر
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبارگاہِ رسالت سے جنت کی بشارت پانے کے باوجود   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیر سے ہمیشہ ڈرتے رہتے تھے اور مختلف صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے اپنے متعلق رائے لیتے تھے۔چنانچہ،
کیا منافقین میں   میرا نام بھی ہے؟
 دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۸۵۷ صفحات پر مشتمل کتاب ’’جہنم میں   لے جانے والے اعمال‘‘جلد اول، صفحہ ۷۸ پر ہے: حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں   کے تاجور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں   
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری ،کتاب مناقب الانصار ،باب ھجرۃ النبی ۔۔۔الخ ،ج۲، ص۵۹۸، حدیث:۳۹۱۵۔
2…طبقات کبری ، ذکر استخلاف عمر، ج۳، ص۲۷۳ملتقطا۔