اے عمر! اگر تمہارے پاس ایسا مال آئے جو تم نے طلب نہ کیا ہو اور نہ ہی اس کی چاہت ہوتو اسے رکھ لیا کرو اور جو نہ ملے اس کی طلب مت کرو۔‘‘حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بیٹے حضرت سیِّدُنا سالم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’فَمِنْ اَجْلِ ذَلِكَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا یَسْاَلُ اَحَدًا شَیْئًا وَلَا یَرُدُّ شَیْئًا اُعْطِیَہُ یعنی یہی وجہ تھی کہ میرے والد حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کسی سے کچھ نہیں مانگتے تھے اور بغیر مانگے اگر کوئی دے دیتا تو اسے رد نہیں کرتے تھے۔(1)
فاروقِ اعظم اور فکر آخرت
روز آخرت حساب وکتاب کا خوف:
حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بیٹے حضرت سیِّدُنا ابو بُردہ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتےہیں کہ ایک بار مجھ سے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کہاکہ آپ کو معلوم ہے کہ میرے والد گرامی نے تمہارے والد سے کیا کہاتھا ؟‘‘میں نے کہا: ’’نہیں ۔‘‘ تو انہوں نے کہا کہ میرے والد نے تمہارے والد سے کہا تھا :’’کیا آپ کو یہ بات پسند نہیں کہ دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی موجودگی ہمارا اسلام لانا، آپ کے ساتھ ہجرت کرنا، جہاد کرنا اور تمام وہ اعمال جو ہم نے آپ کے ساتھ کیے وہ ویسے ہی برقرار رہیں البتہ جو کام ہم نے آپ کے بعد کیے ( اللہعَزَّ وَجَلَّکے خوف کے سبب ہم یہ چاہیں کہ) ان میں ہمیں برابر برابر نجات مل جائے؟‘‘ (یعنی نہ ثواب نہ عذاب) تو آپ کے والد نے جواب دیا: ’’نہیں ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! ہم نے حضور نبی ٔپاک، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال کے بعد بھی جہاد کیا، نمازیں پڑھیں ، روزے رکھے ،دیگر کثیر اعمال کیے اور ہمارے ہاتھ پر بہت سے لوگ ایمان بھی لائے ہیں (ہمیں اللہعَزَّ وَجَلَّکی رحمت سے امید ہے کہ) ان سب کا ہمیں ضرور ثواب ملے گا۔‘‘مگر میرے والد حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پھر کہا:’’اس رب عَزَّ وَجَلَّ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے!میری تو یہی خواہش ہے کہ جو اعمال ہم نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ کیے وہ تو برقرار رہیں اور جو بعد میں کیے ان میں ہمیں برابر برابر نجات مل جائے۔‘‘
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… مسلم ،کتاب الزکاۃ،اباحۃ الاخذلمن اعطی۔۔۔الخ ،ص۵۲۰، حدیث:۱۱۱۔