Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
163 - 831
 کےلیے اس جانور کو تکلیف میں   ڈالا، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اب عمر تمہاری مچھلیوں   میں   سے ایک مچھلی بھی نہیں   کھائے گا۔‘‘ (1)
دنیا سے بے رغبتی کی علامت:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دنیا سے بے رغبتی کی ایک علامت یہ بھی ہے جس چیز کی خواہش ہو اس کو ترک کردیا جائے، بلکہ اپنے نفس پر کنٹرول کیے بغیر ہر وقت کھاتے پیتے رہنا فضو ل خرچ ہونے کی علامت ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سےروایت ہے کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے بیٹے حضرت سیِّدُنا عاصم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھا کہ وہ گوشت کھارہے ہیں   تو فرمایا: ’’ مَاھٰذَا یعنی یہ کیا ہے؟‘‘ انہوں   نے عرض کیا: ’’قَرِمْنَا اِلَیْہِ یعنی حضور! ہمیں   اس گوشت کو کھانے کی شدید خواہش تھی۔‘‘آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دنیا کی بے رغبتی سے بھرپور جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’كُلَّمَا قَرِمْتَ اِلٰی شَیْءٍ اَكَلْتَہُ كَفٰی بِالْمَرْءِ سَرَفًا اَنْ یَاْكُلَ كُلَّ مَا اشْتَھٰی یعنی جب بھی تمہیں   کسی شے کی شدید خواہش ہوگی تو تم اسے کھانا شروع کردو گے ، یاد رکھو! کسی شخص کے فضول خرچ ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر اس چیز کو کھائے جس کی اسے خواہش ہو۔‘‘(2)
فاروقِ اعظم اور جذبۂ ایثار
ایثار کا عظیم جذبہ:
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نےامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو کچھ عطا فرمایا تو انہوں   نے یوں   عرض کی: ’’اَعْطِہِ يَا رَسُولَ اللہِ اَفْقَرَ اِلَیْہِ مِنِّیْیعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   !آپ یہ چیز کسی ایسے شخص کو عطا فردیں   جو مجھ سے زیادہ اس چیز کی حاجت رکھتا ہو۔‘‘تواللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’خُذْهُ فَتَمَوَّلْہُ اَوْ تَصَدَّقْ بِہٖ وَمَا جَاءَكَ مِنْ ھَذَا الْمَالِ وَاَنْتَ غَیْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْہُ وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْہُ نَفْسَكَ یعنی اے عمر! اسے لے لو، آگے تمہاری مرضی ،اپنے پاس رکھو یا اسے صدقہ کر دو۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کنزالعمال، فضائل الفاروق، شمائلہ، الجزء:۱۲، ج۶، ص۲۸۷، حدیث:۳۵۹۶۶، تاریخ الاسلا  م ، ج۳، ص۲۶۸۔
2…الزھد لابن المبارک، باب ما جاء فی ذم التنعم،ص۲۶۶،الرقم: ۷۶۹، تاریخ ابن عساکر، ج۴۴، ص۳۰۰۔