عطیات احسان اور نیکیاں ہوں گی تو ( محشر کے دن) کھڑے شخص سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا۔پھر اسے (حساب وکتاب کے بعد) یا تو جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا یا جنت کی خوشخبری سنائی جائے گی ۔‘‘
(اشعار کی صورت میں اس اعرابی کی یہ باتیں سن کر ) امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی آنکھوں سے سیلِ اشک رواں ہو گیا،یہاں تک کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی داڑھی مبارک تر ہوگئی ۔ پھرآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے غلام کو حکم فرمایا: اے غلام ! اس شخص کو میری یہ قمیص عطا کردو ۔ اور یہ اس وجہ سے نہیں کہ اس نے اچھا شعر کہا ہے، بلکہ اس دن (یعنی روز قیامت) کیلئے۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا:’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم ! (اس وقت) اس قمیص کے علاوہ میں کسی اور چیز کا مالک نہیں ۔‘‘اللہ
عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہواور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
فاروقِ اعظم کی دنیا سے بے رغبتی کی ترغیب
ایک مچھلی بھی نہیں کھاؤں گا:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نہ صرف خود متقی وپرہیزگار و دنیاسے بے رغبتی فرمانے والے تھے بلکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دیگر لوگوں کو بھی تقویٰ وپرہیزگاری اور دنیا سے بے رغبتی کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا اسلم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک دن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’لَقَدْ خَطَرَ عَلٰی قَلْبِیْ شَھْوَۃُ السَّمَكِ الطَّرِیِّ یعنی میرے دل میں تازہ مچھلی کھانے کی طلب ہورہی ہے۔‘‘یہ سننا تھا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا غلام یرفا آٹھ میل کا سفر طے کرکے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لیے تازہ مچھلیوں کا ایک ٹوکرا خرید کر لے آیا۔ بعدازاں اپنی سواری اور اس کے کجاوے وغیرہ کو دھویا۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: ’’ اِنْطَلِقْ حَتّٰی اَنْظُرَ اِلَی الرَّاحِلَۃِ یعنی چلو میں بھی تمہاری سواری کو دیکھ لوں ۔‘‘جب آپ نے گھوڑے کو ملاحظہ کیا تو ارشاد فرمایا: ’’نَسِیْتَ اَنْ تَغْسِلَ ھٰذَا الْعِرْقَ الَّذِیْ تَحْتَ اُذُنِهَا عَذَّبْتَ بَھِیْمَۃً فِیْ شَھْوَۃِ عُمَرَ لَا وَاللہِ لَا یَذُوْقُ عُمَرُ مَكْتَلَكَ یعنی شاید تم اس پسینے کو دھونا بھول گئے ہو جو اس گھوڑے کے کانوں کے نیچے ہے، اور افسوس! تم نے عمر کی خواہش کو پورا کرنے