Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
161 - 831
 حَیَاتِی الدُّنْيَا وَاَسْتَمْتِعُ بِھَا یعنی اے عتبہ! کیا میں   اپنی دنیاوی زندگی ہی میں   ساری نعمتیں   کھالوں   اور ان سے فائدہ اٹھالوں  ۔‘‘(1)
دنیاداروں   کے پاس کثرت سے جانے کی ممانعت:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عبید رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’لَا تُکْثِرُوْا الدُّخُوْلَ عَلَی اَھْلِ الدُّنْیَا فَاِنَّھَا مَسْخَطَۃٌ لِلرِّزْقِ یعنی دنیاداروں   کے پاس کثرت سے نہ جایا کرو کیونکہ یہ رزق کی ناراضگی(یعنی تنگدستی) کا سبب ہے۔‘‘(2)
فاروقِ اعظم اور فکر آخرت
اپنی قمیص اتار کر عطا فرمادی:
دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۴۱۰صفحات پر مشتمل کتاب ’’عیون الحکایات‘‘حصہ اول، ص۳۴۰ پر ہے: حضرت سیِّدُناعبد الوھاب بن عبداللہ بن ابی بکرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے، آپ فرماتے ہیں   کہ ایک اعرابی امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی بارگاہ میں   حاضر ہوا اور عرض کی: ’’اے عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ! نیکی کریں  جنت پائیں   ۔‘‘پھراس نے چند عربی اشعار پڑھے جن کاترجمہ یہ ہے:
’’ میر ی بچیوں   اور ان کی ماں   کو کپڑے پہنائیے توہم ساری زندگی آپ کے لئے جنت کی دعا کریں   گے ۔  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! آپ (یہ نیکی ) ضرور کریں   گے ۔‘‘
  امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا:’’ اگر میں   ایسا نہ کر سکوں   تو؟‘‘اعرابی بولا:’’اے ابوحفص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ! اگر ایسانہ ہوا تو میں   چلاجلاؤں   گا ۔‘‘
  امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاورق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے پوچھا :’’ اگرتُو چلا گیاتو پھر کیا ہوگا ؟ ‘‘
  وہ کہنے لگا: ’’تو پھر   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم ! آپ سے میرے حال کے بارے میں   ضرور سوال کیا جائے گا۔اور اس دن 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ ابن عساکر، ج۴۴، ص۲۹۶، تاریخ الاسلام، ج۳، ص۲۶۸۔
2…مناقب امیر المؤمنین عمر بن الخطاب، الباب السابع والخمسون، ص۱۷۲۔