Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
160 - 831
 عَنْہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا:’’اے مہاجرین و انصار!یہ شے اتنی لذیذ ہے کہ اسے پانے کے لیے باپ بیٹے کو اور بھائی بھائی کو قتل کرسکتا ہے۔‘‘ اس کے بعد آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دور میں   شہید ہونے والے مہاجرین انصار کی اولاد میں   اسے تقسیم کردیا۔ بعد ازاں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ گھر تشریف لے گئے اپنے لیے اس لذیذ شے میں   سے کچھ نہ رکھا۔(1)
سونے، جواہرات کے خزانوں  کی تقسیم:
جب عراق فتح ہوا اور شاہِ کسریٰ کے خزانے مدینہ طیبہ لائے گئے تو بیت المال کے خزانچی نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں   عرض کیا: ’’کیا یہ خزانے بیت المال میں   نہ داخل کردیں   ؟‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’ ہر گز نہیں  ! اس چھت کے نیچے جو کچھ ہے سب تقسیم کردیا جائے۔‘‘ چنانچہ مسجد میں   چٹائیاں   بچھائیں   گئیں   اور اُن پر سارا مال رکھ کر ڈھانپ دیا گیا۔جب لوگوں   کے سامنے پردہ اُٹھایا گیا تو سونے اور جواہرات کی چمک سے ایک عجیب سا سماں   پیدا ہوگیا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’جو لوگ یہ خزانہ یہاں   تک لائے ہیں   بڑے ہی امانت دار ہیں  ۔‘‘(یعنی ایسی چمک دمک والے مال کو دیکھ کر بھی انہوں   نے کسی قسم کی خیانت نہ کی) لوگوں   نے عرض کیا: ’’حضور! آپ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے امین ہیں   اور لوگ آپ کے امین ۔ جب تک آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خدا کے امین رہیں   گے تب تک لوگ آپ کے امین رہیں   گے اور جب آپ میں   کوئی تبدیلی واقع ہوگی تو لوگ بھی خائن ہوجائیں   گے۔‘‘بہرحال آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سار ا مال تقسیم کردیا اور اپنی ذات کے لیے کچھ نہ رکھا۔(2)
کیا میں   دنیاوی نعمتیں   کھاؤں  ۔۔۔؟
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی دنیاوی عیش وعشرت سے بے رغبتی کا یہ عالم تھا کہ ایک بار حضرت سیِّدُنا عتبہ بن فرقد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے آپ کے کھانے کے متعلق گفتگو کی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دنیا کی بے رغبتی سے بھرپور جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’وَیْحَكَ آكِلُ طَيِّبَاتِیْ فِیْ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ ابن عساکر ،ج۴۴، ص۲۹۳ ملتقطا، کنز العمال ،فضائل الفاروق ،زھدہ ،الجزء:۱۲، ج۶، ص۲۸۴، حدیث:۳۵۹۵۴ ملتقطا۔
2…ریاض النضرۃ ،ج۱،ص۳۶۹۔