رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کر تے تھے: ’’وَاللہِ مَا نَعْبَاُ بِلَذَّاتِ الْعَیْشِ وَلٰكِنَّا نَسْتَبْقِیْ طَیِّبَاتِنَا لِاٰخِرَتِنَا یعنی خدا کی قسم! ہمیں دنیا کی لذتوں کی کوئی پرواہ نہیں ، ہم اپنی پاکیزہ نعمتیں آخرت کے لیے بچارہے ہیں ۔‘‘یہی وجہ ہے کہ آپ جو کی روٹی زیتون کے ساتھ تناول فرماتے، پیوند لگے کپڑے پہنتے اورخود اپنا کام خود کرتے۔(1)
دنیا سے بالکل بے رغبت خلیفہ :
حضرت سیِّدُنا اَحنف بن قیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ہمیں امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک جنگ لڑنے عراق بھیجا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہمیں عراق اور فارس پر فتح عطا فرمائی۔ مال غنیمت میں فارس کاسفید کپڑا کثرت سے ہمیں حاصل ہوا، کچھ ہم نے استعمال کرلیا یعنی پہن لیا اور باقی ساتھ رکھ لیا۔ جب ہم مدینہ طیبہ پہنچے اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں حاضری دی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ہم سے منہ پھیر لیا اور کلام تک نہ کیا اور ایسی بے رخی ظاہر کی گویا انہوں نے ہمیں دیکھا تک نہیں ۔ہم بڑے پریشان ہوئے، بہرحال ہم نے اس بات کا تذکرہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے کیا۔ انہوں نے فرمایا: ’’میرے والد ماجد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دنیا سے بالکل بے رغبت ہیں ، انہوں نے آپ لوگوں کو اس قیمتی لباس میں دیکھا ہے جو نہ تو حضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پہنا اورنہ ہی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خلیفہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پہنا آپ لوگوں کے ساتھ اس روکھے رویے کی صرف یہی وجہ ہے۔‘‘
حضرت سیِّدُنا احنف بن قیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ جیسے ہی ہم نے یہ سناتو اپنے گھروں میں آئے، وہ کپڑے اتار ے اور پرانے کپڑے پہن کر واپس آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بڑے ہی پرتپاک طریقے سے ملاقات فرمائی، ہر ایک سے علیحدہ علیحدہ سلام کیا اور ایک ایک کو گلے لگایا، گویا اس سے قبل آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ہم سے ملاقات ہی نہیں ہوئی تھی۔ مال غنیمت میں حلوے کی قسم سے زر د اور سرخ ر نگ کی کوئی میٹھی چیز آپ کے سامنے آئی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے چکھا۔ وہ بہت ہی خو ش ذائقہ اور خوش بو دارتھی۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ ابن عساکر،ج۴۴،ص۳۰۰۔