Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
158 - 831
فاروقِ اعظم کی دُنیا سے بے رغبتی اور لاتعلقی :
حضرت سیِّدُنا طلحہ بن عبید اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے ، فرماتے ہیں  :’’مَا كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِاَوَّلِنَا اِسْلَاماً وَلَا اَقْدَمِنَا ھِجْرَةً وَلٰكِنَّہُ كَانَ اَزْھَدَنَا فِی الدُّنْیَا  وَاَرْغَبَنَا فِی  الْآخِرَۃِ  یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نہ تو ہم سے پہلے ایمان لائے اورنہ ہی ہم سے پہلے ہجرت کی، مگر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہم سے بڑھ کردنیا سے بے رغبت اورآخرت کے شائق تھے۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم سب سےز یادہ دنیا سے بے رغبت:
حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :’’وَاللہِ مَا كَانَ عُمَرُ بِاَقْدَمِنَا ھِجْرَۃً وَقَدْ عَرَفْتُ بِاَیِّ شَیْءٍ فَضَّلَنَا كَانَ اَزْھَدَنَا فِی الدُّنْیَا یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہجرت کرنے میں   ہم سے مقدم نہیں   لیکن میں   نے اس بات کو جان لیا ہے کہ وہ کیوں   ہم پر فضیلت وسبقت لے گئےہیں  ؟ اور وہ یہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہم میں   سب سے زیادہ دنیا سے بے رغبت ہیں  ۔‘‘(2)
فاروقِ اعظم حقیقی عبادت گزار:
حضرت سیِّدُنا شفاء بنت عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  چند نوجوانوں   کے پاس سے گزریں   تو دیکھا کہ وہ آپس میں   کھسر پھسر کررہے ہیں  ، آپ نے فرمایا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘ انہوں   نے کہا: ’’عبادت گزار لوگ۔‘‘ (یعنی یہ عبادت گزار لوگ ہیں   اس لیے آہستہ آہستہ بات کررہے ہیں  ۔) فرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! امیر المؤمنین سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب بھی بات کیا کرتے تو اتنی بلند آواز سے کہ باآسانی سنی جاتی، جب چلتے تو تیز تیز چلتے، جب ضرب لگاتے تو اس طرح کہ درد ہوتاحالانکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ حقیقی عبادت گزار تھے۔‘‘ (3)
دنیا کی لذتوں   کی ہمیں   کوئی پرواہ نہیں   :
حضرت سیِّدُنا سالم بن عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اسدالغابۃ،عمر بن خطاب ،ج۴، ص۱۶۷۔
2…اسد الغابۃ، عمر بن الخطاب، ج۴، ص۱۶۷۔
3…طبقات کبری، ذکر استخلاف عمر، ج۳، ص۲۲۰۔