Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
157 - 831
خدائے  قہار ہے غضب پر کھلے ہیں   بدکاریوں   کے دفتر
بچا لو آ کر شفیع محشر تمہارا بندہ عذاب میں   ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
فاروقِ اعظم کی دنیا سے بے رغبتی
آخرت کے معاملے میں   جلدی ہونی چاہیے:
 دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۸۲صفحات پر مشتمل کتاب ’’دنیا سے بے رغبتی اور امیدوں   کی کمی‘‘ ص۷۳ پر ہے:امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  آخرت کے معاملے میں   سستی کوبالکل پسند نہ کرتے تھے ۔اورآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرمایا کرتے تھے:’’ہر کام میں   آہستگی ہونی چاہے سوائے آخرت کے معاملے میں   ۔‘‘
رسول اللہ اور صدیق اکبر کی طرح زندگی :
ایک بار آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی صاحبزادی اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ انے آپ سے عرض کی: ’’اگر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  اپنے ان کپڑوں   کے بجائے نرم وملائم کپڑے پہنیں   اور اپنے اس کھانے سے زیادہ عمدہ کھاناکھائیں   توکیاحرج ہے ؟ کیونکہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا رزق وسیع کردیا ہے اور آپ کو بہت زیادہ خیر عطا فرمائی ہے۔‘‘امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمرفارق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشادفرمایا:’’میں   تجھے سرزنِش کروں   گا، کیاتمہیں   یاد نہیں   کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ، دانائے غیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم زندگی کی ٹھاٹھ باٹھ پسند نہیں   فرماتے تھے ؟‘‘آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  اپنی صاحبزادی کوباربار یہی فرماتے رہے حتی کہ انہیں   رُلا دیا پھر ارشاد فرمایا: ’’میں   تمہیں   پہلے بھی بتاچکاہوں   کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم !اگر مجھے توفیق ملی تو میں   ان دونوں   یعنی حضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اورآپ کے خلیفہ حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی طرح کٹھن زندگی اختیار کروں   گاہو سکتا ہے میں   ان کی پسندیدہ زندگی پا لوں  ۔‘‘(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزھد وقصر الامل، ص۵۷۔