جب میں نے رسالہ ’’قبر کا امتحان ‘‘ پڑھا۔۔۔:
سینٹرل جیل حیدر آباد(باب الاسلام سندھ) میں ضلع سانگھڑ کے رہائشی ایک قیدی کی تحریر کا لب لباب کچھ یوں ہے کہ میں زندگی کے قیمتی ایام اپنے خالق ومالک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانیوں میں بسر کر رہا تھا۔ اس کے احکامات کی بجا آوری میں سستی میری عادت بن چکی تھی۔لذتِ گناہ میں مخمور ، گندی فلمیں اور ڈرامے دیکھتے دیکھتے میں جرائم کی دنیا میں داخل ہو گیا۔شب و روز دشتِ جرم میں بھٹکتا رہتا۔ آخر کار ایک دن مجھے کسی جرم کی پاداش میں 25سال قید کی سزا سنا دی گئی ۔ جیل میں آنے کے بعد بھی میں نہ سدھر سکا یہاں تک کہ زندگی کے11سال مزید گزر گئے۔
پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل وکرم سے میرے سُدھرنے کا سامان ہوہی گیا ،اس کی ترکیب کچھ یوں بنی کہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ چند باعمامہ اسلامی بھائی ہماری بیرک میں نیکی کی دعوت دینے کیلئے تشریف لاتے اور شیخ طریقت امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے مَدَنی رسائل بھی تحفۃً تقسیم کیا کرتے۔ایک مبلغ دعوت اسلامی نے مجھے ایک رسالہ’’قبر کا امتحان‘‘ پڑھنے کے لئے دیا۔ جب میں نے اس میں منکر نکیر کے سوالات کے وقت کی کیفیات ،قبر کا اپنے اندر آنے والوں سے سلوک اور قبرکے دیگر معاملات کے بارے میں پڑھاتو خوف خداوندی سے لرزاُٹھا، اپنے گناہوں کو یاد کر کے بہت نادم ہوا اور عزم مصمم کر لیا کہ اب اپنا دامن گناہوں کی کانٹے دار شاخوں سے حتی المقدور بچاؤں گا اور نیکی کے راستے پر چلوں گا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ میں نے توبہ کر لی اور پنج وقتہ نماز کی پابندی کے ساتھ ساتھ نماز تہجد کی عادت بھی بنا لی،چہرے پر داڑھی شریف سجا لی اور دعوت اسلامی کے مدرسہ فیضان قرآن میں علم دین حاصل کرنا شروع کر دیا۔میری توبہ کی برکتیں ظاہر ہونا شروع ہو گئیں ،کیس کی مشکلات خود بخود ختم ہوتی چلی گئیں اور اب اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ میں آزاد ہونے والا ہوں ۔میری نیت ہے کہ جیل سے رہائی کے بعد اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسنتیں سیکھنے کے لئے راہ ِخدامیں سفر کرنے والے عاشقانِ رسول کے ساتھ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافلوں کا مسافر بنوں گا۔‘‘
کھڑے ہیں منکر نکیر سر پر نہ کوئی حامی نہ کوئی یاور
بتا دو آکر مرے پیمبر کہ سخت مشکل جواب میں ہے