Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
155 - 831
وشام گناہوں   میں   گزارنے کے باوجود اپنے آپ کو زمانے کا نیک اور پارسا شخص تصور کرتے ہیں  ،اوّلاً ہم سے کوئی نیکی ہوتی نہیں   اور اگر بالفرض کوئی نیکی کربھی لیں   تو ریاکاری کی تباہ کاری اس نیکی کو ہلکی سی چنگاری لگا کر تہس نہس کرڈالتی ہے۔کاش! ہمیں   بھی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جیسا حقیقی خوف خدا عَزَّ وَجَلَّ نصیب ہوجائے جو ریاکاری کی تباہ کاری سے پاک وصاف ہو۔	آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم 
موت کا جھٹکا تلوار سے سخت ہے:
فرمانِ امیر المؤمنین سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ:’’اگر روزِ قیامت یہ اعلان ہو کہ تمام روئے زمین کے آدمی بخش دیئے گئے ہیں   سوائے ایک شخص کےتو خوف خدا کے سبب یہی سمجھوں   گا کہ وہ شخص میں   ہی ہوں  ۔‘‘اعلی حضرت عظیم البرکت مجدددین وملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن اس فرمان کو بیان کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں  : ’’خیر یہ تو حصہ عمر ( رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )کا تھا لیکن کم سے کم ہر مسلمان کو اتنا تو ہونا ہی چاہیے کہ صحت و تند رستی کے وقت ’’خوف‘‘(یعنی خوفِ خدا) غالب ہو اور مرتے وقت ’’رِجا‘‘۔(یعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے مغفرت کی امید)حدیث میں   ہے: ’’ہر جھٹکا موت کا ہزار ضرب تلوار سے سخت ترہے۔‘‘  (مردہ آدمی کو)ملائکہ دبوچے بیٹھے رہتے ہیں   ورنہ آدمی تڑپ کر نہ معلوم کہاں   جائے، اُس وقت اگر مَعَاذَ اللّٰہ
عَزَّ وَجَلَّ کچھ اس طرف سے ناگواری آئی تو سلبِ ایمان ہوگیا۔ اس لیے اس وقت بتایا جائے کہ کس کے پاس جارہا ہے۔(1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر ہم یہ چاہتے ہیں   کہ ہمارے دل میں   بھی رب عَزَّ وَجَلَّ  کا حقیقی خوف پیدا ہوجائے تو اس کا ایک ذریعہ دعوت اسلامی کا مدنی ماحول بھی ہے، آپ دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے اور اپنے قلب میں   خوف خدا کو اجاگر کیجئے۔ اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ دونوں   جہاں   میں   بیڑا پار ہوگا۔ لاکھوں   لوگ اس مدنی تحریک سے وابستہ ہوکر اپنے دلوں   میں   خوف خدا کی شمع اجاگر کرکے اپنے قلوب کو رب عَزَّ وَجَلَّ  اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت سے منور کر چکے ہیں   ۔ترغیب کے لیے ایک بہار پیش خدمت ہے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ملفوظات اعلی حضرت، ص۴۹۵۔