افاقہ ہوا تو ارشاد فرمایا: ’’اے کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ! اورسنائیں ۔‘‘ تو انہوں نے پھر عرض کی: ’’اے امیر المؤمنین! قیامت کے دن جہنم اس طرح بھڑکے گا کہ کوئی مقرَّب فرشتہ یانبی ٔ مرسَل ایسا نہ ہو گا جو گھٹنوں کے بل گر کر یہ نہ کہے: رَبِّ! نَفْسِیْ! نَفْسِیْ! (يعنی اے رب عَزَّ وَجَلَّ! آج میں تجھ سے اپنی بخشش کے علاوہ کچھ نہیں مانگتا)۔‘‘ حضرت سیِّدُنا کعب الاحبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مزید بتایا :’’جب قیامت کا دن آئے گا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اولین وآخرین کو ایک ٹیلے پر جمع فرمائے گا، پھر فرشتے نازل ہو کر صفیں بنائیں گے۔‘‘ اس کے بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا: ’’اے جبرائیل (عَلَیْہِ السَّلَام)! جہنم کو لے آؤ۔‘‘تو حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام جہنم کو اس طرح لے کر آئیں گے کہ اس کی ستر ہزار لگاموں کو کھینچا جا رہا ہو گا، پھر جب جہنم مخلوق سے سو برس کی راہ پر پہنچے گی تو اس میں اتنی شدید بھڑک پیدا ہو گی کہ جس سے مخلوق کے دل دہل جائیں گے، پھر جب دوبارہ بھڑک پیدا ہوگی تو ہر مقرب فرشتہ اور نبی مرسل گھٹنوں کے بل گر جائے گا، پھر جب تیسری مرتبہ بھڑکے گی تو لوگوں کے دل گلے تک پہنچ جائیں گے اورعقلیں گھبرا جائیں گی، یہاں تک کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام عرض کریں گے :’’ میں تیرے خلیل ہونے کے صدقے سے صرف اپنے لئے سوال کرتاہوں ۔‘‘ حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام عرض گزار ہوں گے: ’’یا الٰہی عَزَّ وَجَلَّ ! میں اپنی مناجات کے صدقے صرف اپنے لئے سوال کرتا ہوں ۔‘‘ حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام عرض کریں گے: ’’یاالٰہی عَزَّ وَجَلَّ! تُو نے مجھے جو عزت دی ہے اس کے صدقے میں صرف اپنے لئے سوال کرتا ہوں اس مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے لیے سوال نہیں کرتا جس نے مجھے جناہے۔‘‘(1)
کاش ہمیں بھی خوف خدا نصیب ہوجائے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیارے صحابی ہیں جن کے جتنی ہونے میں کسی شک وشبہے کی قطعاً گنجائش نہیں اس کے باوجود خوف خدا کا یہ حال ہے کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے قبر وآخرت کے مراحل وواقعات سن کر خوب گریہ وزاری فرماتے اور بروز قیامت فرد واحد کے جہنمی ہونے کی صدا پر اپنے آپ کو تصور کرتے کہ وہ جہنمی میں ہی ہوں ۔مگر آہ!آج ہم صبح
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزواجر،مقدمۃ فی تعریف الکبیرۃ ،ج۱ ،ص۴۹۔