Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
153 - 831
کاش! عمر یہ مٹی کا ڈھیلا ہوتا:
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عامر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ میں   نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھا کہ آپ نے زمین سے ایک مٹی کا ڈھیلا اٹھایا اور فرمایا:’’ اے کاش عمر یہ مٹی کا ڈھیلا ہوتا! اے کاش میں   پیدا نہ ہو اہوتا! اے کاش میری ماں   نے مجھے نہ جنا ہوتا! اے کاش میں   کچھ بھی نہ ہوتا! کوئی بھولی بسری شے ہوتا۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم اور خوف وامید کی اعلی مثال:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں   کہ اگر آسمان سے ندا کی جائے کہ’’ تمام روئے زمین کے آدمی بخش دیئے گئے ہیں   سوائے ایک شخص کے۔‘‘تو میں   خوف خدا کے سبب یہی سمجھوں   گا کہ وہ شخص میں   ہی ہوں  ۔اور اگر یہ ندا کی جائے کہ ’’روئے زمین کے تمام آدمی دوزخی ہیں   سوائے ایک شخص کے۔‘‘تو میں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے امید کے سبب یہی سمجھوں   گا کہ وہ ایک شخص بھی میں   ہی ہوں   ۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم خوف خدا کی باتیں   سنتے:
    امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطا ب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے حضرت سیِّدُنا کعب الاحبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے ارشاد فرمایا: ’’اے کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ! ہمیں   ڈر والی کچھ باتیں   سنائیں  ۔‘‘ تو حضرت سیِّدُنا کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے عرض کی :’’اے امیر المؤمنین! اگر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  قیامت کے دن ستر انبیاء کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے عمل لے کر بھی آئیں   تو قیامت کے احوال دیکھ کر انہیں   حقیر جاننے لگیں   گے۔‘‘ اس پرامیر المؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے کچھ دیرکے لئے سرجھکا لیا پھر جب افاقہ ہوا توارشاد فرمایا: ’’اے کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ! مزید سنائیں  ۔‘‘ تو انہوں   نے عرض کی: ’’اے امیرالمؤمنین! اگر جہنم میں   سے بیل کے ناک جتنا حصہ مشرق میں   کھول دیا جائے تو مغرب میں   موجود شخص کا دماغ اس کی گرمی کی وجہ سے اُبل کر بہہ جائے۔‘‘ اس پرامیر المؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے کچھ دیرکے لئے سرجھکا لیا پھر جب 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مصنف ابن ابی شیبۃ ،کتاب الزھد ،کلام عمر بن خطاب ،ج۸، ص۱۵۲، حدیث:۳۹۔
2…احیاء العلوم،کتاب الخوف،بیان ان الافضل ھو غلبۃ الخوف۔۔۔الخ،ج۴،ص۲۰۲۔