’’اے راہب! اے راہب!‘‘اتنے میں راہب باہر آگیا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اسے دیکھ کر زاروقطار رونے لگے۔ پوچھا گیا: ’’یَا اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ مَا یُبْكِيْكَ مَنْ ھٰذَا ؟ یعنی حضور! آپ کو کس چیز نے رلایا اور یہ کون ہے؟‘‘ فرمایا: ’’ذَكَرْتُ قَوْلَ اللہِ عَزَّوَجَلَّ فِیْ كِتَابِہٖ فَذَلِكَ الَّذِیْ اَبْكَانِیْ یعنی قرآن پاک میں مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمان عالیشان یاد آگیااس لیے رونے لگ گیا: (عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌۙ(۳) تَصْلٰى نَارًا حَامِیَةًۙ(۴) تُسْقٰى مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَةٍؕ(۵)) (پ۳۰، الغاشیۃ:۳ تا ۵)ترجمۂ کنزالایمان: ’’کام کریں مشقت جھیلیں ، جائیں بھڑکتی آگ میں ، نہایت جلتے چشمہ کا پانی پلائے جائیں ۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم اور خوفِ خدا عزوجل
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نہایت ہی خوف خدا رکھنے والے تھے، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی سیرتِ طیبہ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے کہ آپ کی حیات کا ہر ہر گوشہ خوف خدا سے بھرپور تھا، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی نصیحت آموز گفتگو خوف خدا کے بے شمار مدنی پھولوں پر مشتمل ہوتی، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا کوئی ایسا فعل نہ تھا جس سے خوفِ خدا نہ جھلکتا ہو۔خوفِ خدا آپ کی ذات مبارکہ پر ایسا غالب تھا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اکثر اوقات اس بات کی تمنا کرتے کہ: کاش! میں اس دنیا میں پیدا نہ ہوا ہوتا اور اے کاش! میں بشر ہی نہ ہوتا۔ اس طرح کے کئی اقوال کتب سیرت میں ملتے ہیں ۔ چنانچہ،
اے کاش! میں بشر نہ ہوتا:
حضرت سیِّدُنا ضحاک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ارشاد فرمایا کرتے تھے:’’ اے کاش! میں اپنے گھر والوں کا دنبہ ہوتا جسے وہ خو ب کھلاتے پلاتے حتی کہ میں خوب موٹا تازہ ہوجاتا۔ پھر ان کے پیارے دوست مہمان بنتے تو وہ مجھے ان کے لیے ذبح کرتے ، میرے کچھ گوشت کو بھونتے، کچھ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے کھا جاتے، پھر مجھے فضلہ بنا کر باہر نکال دیتے،اے کاش! میں بشر نہ ہوتا۔‘‘(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مستدرک حاکم ، کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ الغاشیۃ، ج۳، ص۳۶۸، حدیث:۳۹۸۰۔
2…شعب الایمان للبیھقی ،باب فی الخوف من اللہ تعالی ،ج۱،ص۴۸۵،حدیث:۷۸۷۔