تلاوت فاروقِ اعظم اور گریہ وزاری
فاروقِ اعظم کی رقت کے سبب سانس اُکھڑ گئی:
حضرت سیِّدُنا حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نےان آیات کی تلاوت کی: (اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ(۷) مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ(۸)) (پ۲۷، الطور:۷تا۸) ترجمۂ کنزالایمان:’’بیشک تیرے رب کا عذاب ضرور ہونا ہےاسے کوئی ٹالنے والا نہیں ۔‘‘آپ پر خوفِ خدا کے غلبے کے سبب ایسی رقت طاری ہوئی کہ آپ کی سانس ہی اکھڑ گئی اوریہ کیفیت کم وبیش بیس روز تک طاری رہی۔(1)
رخساروں پر دوسیاہ لکیریں :
امام بیہقی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اپنی سند سے روایت کرتے ہیں : ’’اِنَّہُ كَانَ فِیْ وَجْھِہٖ خَطَّانِ اَسْوَدَانِ مِنَ الْبُكَاءِ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے چہرے پر کثرت سے رونے کے سبب دو سیاہ لکیریں بن گئی تھیں ۔‘‘(2)
فاروقِ اعظم وظیفہ پڑہتے ہوئے روتے :
حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنا وظیفہ پڑھنے کے دوران بسا اوقات اتنا روتے کہ غش کھا کر زمین پر تشریف لے آتے، ایک دو روز تک اپنے گھر سے بھی نہ نکل پاتےاور لوگ آپ کی تیمار داری کے لیے آتے۔‘‘(3)
آیات مبارکہ نے فاروقِ اعظم کو رلادیا:
حضرت سیِّدُنا جعفر بن سلیمان رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک عیسائی راہب کے گرجے کے قریب سے گزرے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے یوں بلایا:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…فضائل القرآن لابی عبید،باب ما یستحب ۔۔۔الخ،ص۱۳۷۔
2…شعب الایمان للبیھقی ،باب فی الخوف۔۔۔الخ ، ج۱، ص۴۹۳، حدیث:۸۰۶۔
3…شعب الایمان للبیھقی ، فصل فی البکاءعند قراءۃ القرآن، ج۲، ص۳۶۴، حدیث:۲۰۵۶۔