فاروقِ اعظم اور ذکر اللہ
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کثرت سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کیا کرتے تھے، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زبان ہر وقت ذکر اللہ سے تر رہا کرتی تھی۔ چنانچہ،
کثرت سے ذکراللہ کرنے والے :
حضرت سیِّدُنا امام جعفر صادق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :’’كَانَ اَكْثَرُ كَلَامِ عُمَرَ اَللہُ اَكْبَرُ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فار وق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زبان پر اکثر اللہ اکبرجاری رہتا تھا۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کے روزے
وفات سے قبل مسلسل روزے رکھنا:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بہت کم کھانے والے تھے اور یہی وجہ تھی کہ آپ دبلے پتلے جسم کے مالک تھے۔ آخری عمر میں تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مسلسل روزے رکھتے تھے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے وفات سے قبل مسلسل روزے رکھنے شروع کردیے تھے۔‘‘(2)
فاروقِ اعظم اور اعتکاف
اعتکاف کی منت:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میرے والد گرامی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں نے زمانۂ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ ایک رات مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا، کیا میں اپنی نذر پوری کروں ؟‘‘ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ہاں ! اپنی نذر پوری کرو۔‘‘(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ریاض النضرۃ ،ج۱،ص۳۶۴۔
2…ریاض النضرۃ ،ج۱،ص۳۶۳۔
3…بخاری ،کتاب ا لاعتکاف ،باب الاعتکاف لیلا،ج۱، ص۶۶۶، حدیث:۲۰۳۲۔