۳۹۶ پر ہے: ’’حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ صفوں کے درمیان خلا دیکھتے تو فرماتے :اپنی صفیں درست کرلو۔جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دیکھتے کہ صفیں بالکل سیدھی ہوچکی ہیں ، نمازیوں کے درمیان بالکل خلا نہیں رہا اور سب کے کندھے ملے ہوئے ہیں تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ آگے بڑھے ا ور تکبیرتحریمہ کہتے۔‘‘
فاروقِ اعظم نماز فجر میں طویل قراءت فرماتے:
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی عادتِ کریمہ تھی کہ صبح کی نماز میں اکثر سورۂ یوسف اور سورۂ نحل میں سے قراء َت فرماتے، آپ پہلی رکعت میں کچھ زیادہ تلاوت فرماتے تاکہ بعدمیں آنے وا لے بھی جماعت میں شامل ہو سکیں ۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کے نزدیک سب سے اہم کام نماز:
` امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نزدیک سب سے اہم کام نماز تھا ۔ چنانچہ امام بخاری وامام مسلم وامام مالک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمنے حضرت سیِّدُنا نافع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کیا ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے صوبوں کے گورنروں کے پاس فرمان بھیجا کہ:’’ تمھارے سب کاموں سے اہم میرے نزدیک نماز ہے۔ جس نے اس کا حفظ کیا اور اس پر محافظت کی اس نے اپنا دین محفوظ رکھا اور جس نے اُسے ضائع کیا وہ اوروں کو بدرجۂ اولیٰ ضائع کر ے گا۔‘‘(2)
فاروقِ اعظم کی نماز میں قراءت
فاروقِ اعظم کی نماز میں طویل قراءت:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بعض اوقاتنمازِ فجر میں سورہ حج یا سورہ یوسف یا سورہ نحل جیسی طویل سورتوں کی قراءت فرمایا کرتے تھے۔ تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ نماز میں شریک ہوجائیں ۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…لباب الاحیاء، ص۳۹۶۔
2…موطاامام مالک، کتاب وقوت الصلاۃ،باب وقوت الصلاۃ، ج۱، ص۳۵، ٰحدیث:۶۔
3…بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی ،باب قصۃ البیعۃ والاتفاق علی عثمان،ج۲، ص۵۳۲، حدیث:۳۷۰۰ ملتقطا۔
کنز العمال ،کتاب الصلاۃ ،فصل فی اذکار التحریمۃ ومایتعلق بھا،الجزء:۸، ج۴، ص۵۲، حدیث:۲۲۱۰۵۔