Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
147 - 831
رہے یہاں   تک کہ جب اس آیت مبارکہ پر پہنچے : (وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ(۸۴)) (پ۱۳، یوسف: ۸۴)  ترجمۂ کنزالایمان:’’ اور اس کی آنکھیں   غم سے سفید ہو گئیں   تو وہ غصہ کھاتا رہا ۔‘‘تو زارو قطار رونے لگے ، جب آپ کا رونا منقطع ہوا تو رکوع فرمایا۔(1)
عشاء کی جماعت کا انتظار:
مسجد نبوی میں   جب لوگ جلدی حاضر ہوجاتے تو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نماز جلدی پڑھ لیتے اور لوگوں   کی حاضری میں   دیر ملاحظہ فرماتے تو تاخیر فرماتے اور کبھی ایسا بھی ہوتا کہ سب لوگ حاضر ہوجاتے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  تاخیر فرماتے ۔ چنانچہ ایک بار نماز عشا میں   صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے آپ کی تشریف آوری کا بہت طویل انتظار کیا ۔بہت دیر کے بعد مجبور ہوکر امیرالمومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے درِ اقدس پر حاضر ہو کر عرض کی کہ: ’’ ’’یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !عورتیں   اور بچّے سوگئے۔‘‘ اس کے بعد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم برآمد ہوئے اور فرمایا: ’’رُوئے زمین پر تمہارے سوا کوئی نہیں   جو اس نماز کا انتظار کرتا ہو اور تم نماز ہی میں   ہو جب تک نماز کے انتظار میں   رہو۔‘‘ (2)
رات کے درمیانی حصے میں  رغبت کے ساتھ نماز:
حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے رو ایت ہے کہ ’’كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یُحِبُّ الصَّلَاۃَ فِیْ كَبِدِ اللَّیْلِ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رات کے درمیانی حصے میں   نمازپڑھنا پسند فرماتے تھے۔‘‘(3)
فاروقِ اعظم صفیں   درست کرواتے:
دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ صفحات ۴۱۷پر مشتمل کتاب ’’اِحیاء العلوم کا خلاصہ‘‘ صفحہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تھذیب الاثار للطبری،ذکر من قال۔۔۔الخ،ج۶،ص۱۴۱،حدیث:۲۶۴۹ملتقطا۔
2…بخاری ،کتاب مواقیت الصلوۃ ،باب فضل  العشاء، ج۱، ص۲۰۸، حدیث:۵۶۶۔
3…طبقات کبری،ذکر استخلاف عمر،ج۳،ص۲۱۷۔