Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
146 - 831
تقویٰ مؤمن کی عزت ہے:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  : ’’كَرَمُ الْمُؤْمِنِ تَقْوَاہُ یعنی مومن کی عزت اس کا تقویٰ وپرہیزگاری ہے۔‘‘(1)
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اس فرمان کا اشارہ قرآن پاک میں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمان عالیشان کی طرف ہے: (اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ-) (پ۲۶، الحجرات:۱۳) ترجمۂ کنز الایمان: ’’ بیشک اللہ کے یہاں   تم میں   زیادہ عزت والا وہ جو تم میں   زیادہ پرہیزگار ہے۔‘‘
دل اور بدن کی راحت:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا: ’’اَلزُّھْدُ فِی الدُّنْیَا رَاحَۃُ الْقَلْبِ وَالْبَدَنِ یعنی دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے میں   دل اور بدن کی راحت ہے۔‘‘(2)
تقوے کے لیے فاروقِ اعظم کی صحبت:
حضرت سیِّدُنا مسور بن مخرمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں  : ’’كُنَّا نَلْزَمُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ نَتَعَلَّمُ مِنْہُ الْوَرَعَ یعنی ہم لوگ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ لگے رہتے تھے تاکہ تقویٰ وپرہیزگاری سیکھیں  ۔‘‘(3)
فاروقِ اعظم اور نماز
نماز فجر میں   زاروقطار رونے لگے:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن شداد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے ، فرمایا: ایک بار ہمیں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نماز فجرپڑھائی اور قراءت میں   سورہ یوسف کی تلاوت شروع کی، قراءت فرماتے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… جامع الاصول، الفصل الاول، فی احادیث مشترکۃ تبین آداب النفس، نوع سادس، ج۱۱، ص۶۵۴، الرقم: ۹۳۳۸۔
2…مناقب امیر المؤمنین عمر بن الخطاب، الباب السابع والخمسون، ص۱۷۶۔
3…طبقات کبری، ذکر استخلاف عمر، ج۳، ص۲۲۰۔