Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
145 - 831
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت میں   سب سے زیادہ پختہ تھے اور خود رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس بات کی گواہی دی۔چنانچہ،
فاروقِ اعظم رب تعالی کے حکم کے معاملے میں   سب سے زیادہ سخت:
حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے روایت ہے کہ حضور نبی ٔپاک، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اَشَدُّ اُمَّتِیْ فِیْ اَمْرِ اللہِ تَعَالٰی عُمَرُ یعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم کے معاملے میں   میرا سب سے سخت امتی عمر ہے۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کا تقویٰ و پرہیز گاری
فاروقِ اعظم تمام صحابہ سے بڑھ کر تارک الدنیا تھے :
حضرت سیِّدُناطلحہ بن عبید اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں  :’’امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نہ تو ہم سے پہلے ایمان لائے اور نہ ہی پہلے ہجرت کی، مگر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہم سب سے بڑھ کر تارک الدنیا اور فکر آخرت رکھنے والے تھے۔‘‘ (2)
فاروقِ اعظم تقوے کی وصیت فرماتے:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نہ صرف خود متقی پرہیزگار تھے بلکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تو مختلف صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو بھی تقوے کی نصیحت فرماتے رہتے تھے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن جعدہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیِّدُنا یسار رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے پاس سے گزرے تو انہیں   سلام کیا اور ارشاد فرمایا: ’’وَ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّاھُوَ مَا مِنْ اِلٰہٍ اِلَّا اللہُ وَاُوْصِیْكُمْ بِتَقْوَى اللہِ یعنی اس رب عَزَّ وَجَلَّ  کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں  !  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں   اور میں   تمہیں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں  ۔‘‘(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صفۃ الصفوۃ، ذکر جملۃ من مناقبہ وفضائلہ، الجزء:۱، ج۱، ص۱۴۴۔
2…تاریخ ابن عساکر ،ج۴۴،ص۲۸۷، اسد الغابۃ ،عمر بن خطاب  ، ج۴، ص۱۶۷۔
3…مصنف عبد الرزاق،کتاب الصلاۃ،باب النوم قبلھا ۔۔۔ الخ، ج۱، ص۴۱۴، حدیث: ۲۱۳۷۔