وقت کا تقاضا یہ تھا کہ کوئی ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے کہ مسلمانوں میں انتشار بھی پیدا نہ ہو اور خلیفہ کا تقرر بھی ہوجائے ۔لہٰذا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی فراست سے معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے چھ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان پر مشتمل ایک شوریٰ ترتیب دی جس نے خلیفہ کا تقرر کیا اور مسلمانوں میں کسی قسم کا اختلاف نہ ہوا۔ یقیناً یہ بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بہترین معاملہ فہمی کا شاہکار ہے۔
فاروقِ اعظم اور اطاعت باری تعالی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واضح رہے کہ تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اطاعت باری تعالی اور اطاعت رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر سختی کے ساتھ کاربند تھے، یہی وجہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تمام صحابہ سے اپنی رضا کا وعدہ فرما لیا۔ چنانچہ پارہ ۵، سورۃالنساء، آیت ۹۵ میں ارشاد ہوتاہے:
(لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْؕ-فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةًؕ-وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ-وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ(۹۵)) (پ۵، النساء:۹۵) ترجمۂ کنزالایمان: ’’برابر نہیں وہ مسلمان کہ بے عذر جہاد سے بیٹھ رہیں اور وہ کہ راہِ خدا میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں اللہ نے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد والوں کا درجہ بیٹھنے والوں سے بڑا کیا اور اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرمایا اور اللہ نے جہاد والوں کو بیٹھنے والوں پر بڑے ثواب سے فضیلت دی ہے ۔‘‘
ایک اور مقام پر ارشاد فرماتاہے:( وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَؕ-اُولٰٓىٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْاؕ-وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠(۱۰)) (پ۲۷، الحدید:۱۰) ترجمۂ کنزالایمان: ’’ اور تمہیں کیا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو حالانکہ آسمانوں اور زمین سب کا وارث اللہ ہی ہے تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتحِ مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا وہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا اور ان سب سے اللہ جنّت کا وعدہ فرما چکا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے ۔‘‘