Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
143 - 831
تمام مسلمان ایک جگہ جمع ہوگئے:
خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اپنی حیات طیبہ میں   تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو زندگی کے ہر ہر گوشے میں   بہترین رہنمائی عطا فرمائی ، کوئی بھی معاملہ ہوتا صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان   فورا ًبارگاہِ رسالت میں   حاضر ہوجاتے اور اس کا حل انہیں   مل جاتا۔ یہی وجہ تھی کہ جیسے ہی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وصال ظاہری ہوا مسلمانوں   پر ایک بہت بڑی آزمائش آگئی کہ اب وہ کس سے رہنمائی حاصل کریں   گے؟ لہٰذا فوراً اس بات کو پیش نظر رکھا گیا کہ کوئی خلیفہ مقرر کیا جائے جس کی اتباع کی جاسکے۔ اس معاملے میں   مہاجرین وانصار صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی رائے مختلف ہوگئی۔ ایک طرف رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وصال ظاہری کا صدمہ تو دوسری طرف رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خلیفہ کے انتخاب میں   مسلمانوں   کا اختلافِ رائے اس بات کا تقاضا کرتا تھا کہ فوراً اس اختلاف کو ختم کیا جائے ۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے آگے بڑھ کر تمام مسلمانوں   میں   سب سے بہتر شخصیت یعنی امیر المؤمنین ، خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بیعت کرلی، آپ کو دیکھ کر تمام لوگوں   نے بیعت کرلی اور مسلمان ایک ہی خلیفہ پر جمع ہوگئے۔(1)
انتقال سے قبل شوری کا قیام بھی آپ کی معاملہ فہمی ہے:
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اپنے وصال ظاہری سے قبل امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خلافت پر کنایۃً تمام مسلمانوں   کو مطلع فرمادیا تھا، یہی وجہ تھی کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خلافت پر تمام مسلمان متفق ہوگئے۔ پھر حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے وصال ظاہری سے قبل امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بطور وصیت خلیفہ مقرر فرمادیا۔یہی وجہ تھی کہ اس پر بھی کسی کو اختلاف نہ ہوا۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا جب وصال ظاہری کا وقت آیا تو 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اس واقعے کی تفصیل پڑھنے کے لیے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۷۲۲صفحات پر مشتمل کتاب ’’فیضان صدیق اکبر‘‘ صفحہ ۳۲۱ کا مطالعہ کیجئے۔