حدیث قرطاس اور فاروقِ اعظم کی معاملہ فہمی :
شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن، اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مرضِ وفات کا مشہور واقعہ قرطاس ہے جس میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے وصال ظاہری سے تین روز قبل ارشاد فرمایا کہ میں تمہارے لیے ایسی تحریر لکھ دوں کہ تم آئندہ بہک نہ سکو۔ایسے نازک وقت میں جب کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مرض الموت میں ہیں امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے معاملہ کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اس وقت موجود صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے مخاطب ہوکر ارشاد فرمایاکہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم درد کی شدت میں ہیں لہٰذا قلم دوات لانے کی حاجت نہیں ،ہمارے لیے قرآن کافی ہے۔(1)
رسول اللہ کے وصال ظاہری پر آپ کا فرمان:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مسلمانوں کے لیے سب سے بڑے رنج و غم کا وقت وہ تھا جب تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس دنیا سے وصال ظاہری فرمایا۔جہاں مسلمانوں کے لیے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وجود’’ نعمت کبریٰ‘‘ تھا وہیں منافقین وکفار آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وجودمسعود کو اپنے لیے آڑ محسوس کرتے تھے، اگر مسلمانوں کے قلوب میں اس بات کی خواہش تھی کہ تا قیامت ہمیں رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی قرابت نصیب ہوتو وہیں منافقین وکفار اس بات کے خواہاں تھے کہ مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس دنیا سے فی الفورپردہ فرماجائیں ، بلکہ منافقین کی فتنۂ انکارِ زکوۃ وارتداد جیسی کئی سازشیں بھی تیار تھیں جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال پر موقوف تھیں ۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے منافقین کی انہی ناپاک سازشوں کو کمزور کرنے کے لیے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال ظاہری کی خبر کو پھیلنے سے روکا اور بعدِ وصال مسجد نبوی میں تشریف لائے اور فرمایاکہ ’’اگر کسی نے یہ کہا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وصال فرماگئے ہیں تو میں اس کی گردن اڑادوں گا۔‘‘آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ فرمان بھی منافقین کی سازشوں کو کمزور کرنے کے سلسلے میں بہترین معاملہ فہمی کی عکاسی کرتاہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اس واقعے کی تفصیل کے لیے اسی کتاب کا موضوع ’’فاروقِ اعظم عہدِ رسالت میں ‘‘ص ۔۔ کا مطالعہ کیجئے۔