Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
141 - 831
میں   نیزہ لٹکا کر حرم روانہ ہوئے۔ کعبۃ اللہ شریف کے صحن میں   قریش کا ایک گروہ موجود تھا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پورے اطمینان سے سات چکر لگا کر طواف مکمل کیا۔پھر سکون سے نمازادا کی۔ کفار کے ایک ایک حلقے کے سر پر جا کر کھڑے ہوئے اور ببانگ دھل فرمانے لگے: ’’تمہارے چہرے ذلیل ہوگئے ہیں  ،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان چہروں   کو خاک میں   ملا دے گا، جس نے اپنی ماں   کو نوحہ کرنے والی، بیوی کوبیوہ اور بچوں  کو یتیم کرنا ہو وہ حرم سے باہر آکر مجھ سے دو دو ہاتھ کر سکتا ہے۔‘‘(یہ فرما کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ باہر تشریف لے آئےاور کوئی بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے پیچھے آنے کی جراءت نہ کرسکا۔) (1)
فاروقِ اعظم مزاج شناس رسول :
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی حیات طیبہ کے بے شمار ایسے واقعات ملتے ہیں   کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کسی بات پر جلال میں   آگئے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی معاملہ فہمی سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جلال کو جمال میں   تبدیل کردیا۔ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں   روزے کے متعلق سوال کیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  جلال میں   آگئے ۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبھی وہاں   موجود تھے اور آپ کا یہ عقیدہ تھا کہ رسول اللہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کاغضب   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے غضب کو دعوت دیتاہے اور اگر حالت جلا ل میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کچھ ارشاد فرمادیا تو یقیناً دنیا وآخرت کی تباہی مقدر ہوگی لہٰذا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فوراً بارگاہِ رسالت میں   مؤدِّبانہ التجا کرتے ہوئے عرض کی: ’’رَضِیْنَا بِاللّٰہِ رَبًّا وَبِالْاِسْلَامِ دِیْناً وَ بِمُحَمَّدٍ نَّبِیًّا نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ غَضَبِ اللہِ وَمِنْ غَضَبِ رَسُوْلِہٖ یعنی عَزَّ وَجَلَّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے، محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نبی ہونے پر راضی ہیں  ، ہم   اللہ
عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے غضب سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگتے ہیں  ۔‘‘آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مزاج شناس رسول تھے، بعد میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے وہی سوال رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اس میٹھے انداز میں   کیے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا جلال جمال میں   تبدیل ہوگیا۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اسد الغابۃ،عمر بن الخطاب،ھجرتہ، ج۴، ص۱۶۴ ملخصا۔
2…اس نوعیت کے واقعات کے لیے اسی کتاب کا موضوع، فاروقِ اعظم اور عشق رسول ص۔۔کا مطالعہ کیجئے۔