Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
140 - 831
 آپ کی فراست ومعاملہ فہمی دونوں   صفات میں   برکت عطا فرمادی اور آپ نے ان دونوں   کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے وقت کے تقاضے کے مطابق بارگاہِ رسالت میں   یہ مدنی مشورہ پیش کردیا کہ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں   اسلام قبول کرچکا ہوں   لہٰذا مسلمان اب چھپ کر نماز ادا نہیں   کریں   گے بلکہ اعلانیہ خانہ کعبہ میں   نماز ادا کریں   گے اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اس مدنی مشورے کی موافقت فرما کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی فراست اور معاملہ فہمی دونوں   صفات پر مہر نبوی ثبت فرمادی۔
اعلانیہ ہجرت کرنا:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اعلانیہ ہجرت بھی آپ کی معاملہ فہمی کا شاہکار ہے کیونکہ جب کفار مکہ کے ظلم وستم میں   بہت تیزی آگئی اور مسلمانوں   کا مکہ مکرمہ میں   جینا دوبھر ہوگیا تو سرکارِ والا تبار، ہم بے کسوں   کے مددگار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے مسلمانوں   کو حبشہ کی جانب ہجرت کرنے کا حکم دے دیا اور مسلمانوں   کی ایک تعداد حبشہ ہجرت کرگئی۔ مسلمانوں   کے حبشہ ہجرت کرنے سے کفار مزید بپھر گئے اور انہوں   نے بقیہ مسلمانوں   کو مزید اپنے ظلم وتشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیاجس کے نتیجے میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے تمام مسلمانوں   کو مدینہ منورہ ہجرت کرنے کا حکم دے دیا۔جب مسلمانوں   نے حبشہ ہجرت کی تو کفار مکہ کے دلوں   میں   فطرتا ایک خیال پیدا ہوا کہ مسلمان اب ہم سے ڈر گئے ہیں   جبھی تو مکہ سے حبشہ ہجرت کررہے ہیں  ، لیکن جب رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مدینہ منورہ ہجرت کرنے کا حکم دیا تو یہ خیال ان کے دل میں   مزید تقویت پاگیا کہ واقعی مسلمان تو اب بہت کمزور ہوچکے ہیں   کہ پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور اب شاید سب مدینہ منورہ ہجرت کرجائیں   گے۔ یہ ایک ایسا وقت تھا کہ اگر کفار مکہ کے اس فاسد خیال کو ٹھیس نہ پہنچائی جاتی تو وہ مکہ مکرمہ میں   بقیہ مسلمانوں   کومدینہ منورہ ہجرت سے روکنے کے ساتھ ساتھ شدید ظلم وستم کا نشانہ بناتے۔ایسے نازک وقت میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی باکمال فراست سے جان لیا کہ کفار مکہ کے اس فاسد خیال کو چکنا چور کرنا بہت ضروری ہے لہٰذا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے تمام مسلمانوں   کے برعکس بالکل اعلانیہ اس طرح ہجرت کی کہ تلوار زیب تن کرکے کمان کاندھے پر لٹکائی، تیروں   کا ترکش ہاتھ میں   لیا اور پہلو