Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
139 - 831
فاروقِ اعظم کی معاملہ فہمی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جہاں   فراست جیسی بے شمار باکمال خوبیاں   عطا فرمائی تھیں   وہیں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ معاملہ فہمی جیسے وصف سے بھی بدرجہ اتم متصف تھے، یوں   تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زندگی کے جس پہلو کو بھی دیکھا جائے وہ اسی صفت کی عکاسی کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ معاملہ فہمی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا عطاکردہ ایک ایسا وصف ہے جو صرف مخصوص افراد ہی کے حصے میں   آتاہے۔کیونکہ معاملہ فہمی اور فراست دونوں   کا گہرا تعلق ہے، جو شخص فراست سے محروم ہوتاہے وہ کبھی بھی معاملہ فہم نہیں   ہوسکتا، کیونکہ جہاں   نرمی سے کام لینا ہے وہاں   غصے سے کام لینا یا اس کے برعکس کرنا یقیناً معاملہ فہمی نہیں   بلکہ معاملے کو مزید خراب کرنے والی بات ہے ۔ فراست ومعاملہ فہمی سے متعلق ایک مشہور مقولہ ہے کہ ’’جسے یہ فن آگیا کہ کہاں   کیا بولنا ہے یا کس وقت کیا کرنا ہے یقیناً وہ دنیا کا بے تاج بادشاہ بن گیا۔‘‘امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ یقیناً   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا اور اس کے فضل وکرم سے اپنی انہی صفات کے سبب دنیا کے بے تاج بادشاہ تھے۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی حیات طیبہ کے معاملہ فہمی سے متعلق چند گوشے ملاحظہ کیجئے:
قبول اسلام کے فوراً بعد اسلام کو ظاہر کرنا:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جب اسلام قبول کیا اس وقت صرف انتالیس لوگوں   نے اسلام قبول کیا تھایعنی مسلمان بہت ہی قلیل تعداد میں   تھے۔کفار قریش میں   صرف دو ہی ایسے لوگ تھے جو اپنے رعب ودبدبہ میں   مشہور تھے ، جن کے نام سے لوگ کانپ جاتے تھے، ایک تو حضرت سیِّدُنا امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور دوسرے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔آپ سے پہلے حضرت سیِّدُنا امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی اسلام قبول کرچکے تھے، اب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بھی اسلام قبول کرلیا تھا، کفار جن دو قوتوں   کے بل بوتے پر مسلمانوں   کو تنگ کرتے تھے، اب وہ دونوں   ہی مسلمانوں   کے پاس تھیں   لہٰذا اِن دو۲ قوتوں   کے ہونے کے باوجود اگر مسلمان اب بھی کھل کر کفار کے مقابلے میں   نہ آتے تو کفار کا غلبہ یقینی تھا، لیکن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جیسے ہی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی غلامی کا پٹا اپنے گلے میں   ڈالا تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے